Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

مومنانہ صفات عن معاذ بن جبل قال قال رسول اللہ صلی اللہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم- اتق اللہ حيثما كنت وأتبع علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم جہاں بھی ہو، اللہ سے ڈرو۔ اور السيئة الحسنة تمحُها وخالق الناس برائی کے بعد بھلائی کرو، وہ برائی کو مٹا دے گی۔ اور لوگوں کے درمیان اچھے اخلاق کے ساتھ رہو۔ (رواه الترمذي) اس حدیث رسول میں تین بنیادی باتیں بتائی گئی ہیں۔ یہ تین باتیں گویا پورے دین اسلام کا مغز اور خلاصہ ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اللہ کی موجودگی کا احساس آدمی کے اوپر اتنا زیادہ چھا جائے کہ وہ ہر جگہ اس کو حاضر و ناظر سمجھنے لگے۔ وہ خواہ جہاں ہو اور جس مشغولیت میں بھی ہو، وہ اپنے آپ کو اللہ کی نگرانی میں سمجھے اور اس سے ڈرتے ہوئے اپنا ہر کام کرنے لگے۔ دوسری بات برائی کے بدلے میں بھلائی کرنا ہے۔ یہی برائی کو ختم کرنے کا سب سے زیادہ یقینی طریقہ ہے۔ اگر برائی کے جواب میں برائی کی جائے تو برائی بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ مگر جب آپ برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی والا سلوک کرتے ہیں تو آپ پہلے ہی مرحلہ میں برائی کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ اسلام آدمی کے اندر اعتراف اور تواضع کا مزاج بناتا ہے۔ ایسا آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ وہ ہر وقت حق کو ماننے کے لیے تیار رہتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ تعلقات کے دوران دوسروں کو اس سے نرمی اور بے نفسی کا تجربہ ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے حق میں اچھے سلوک والا انسان بن جاتا ہے۔ آدمی کا معاملہ ایک طرف خدا سے ہے۔ دوسری طرف اس کا معاملہ اپنے جیسے انسانوں سے ہے۔ خدا تمام انسانوں کا خالق و مالک ہے۔ اس لیے خدا کے معاملہ میں جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ آدمی اس کی عظمت کے احساس سے سرشار ہو۔ وہ اس کے غضب سے ڈرے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہو۔ انسان کے معاملہ میں آدمی سے جو چیز مطلوب ہے وہ اچھا اخلاق ہے۔ اگر بالفرض کسی انسان کے ساتھ برائی ہو جائے تو فوراً اس کے ساتھ بھلائی کر کے اس کی تلافی کرنا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page