Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

نعمت پر شکر عن ابی ھریرۃ ، قال قال رسول الله صلی الله ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علیہ وسلم ۔ انظروا الى من هو اسفل منکم نے فرمایا۔ تم اس کو دیکھو جو تم سے نیچے ہے ، اس کو نہ دیکھو ولا تنظروا الى من هو فوقکم ۔ فهو اجدر جو تم سے اوپر ہے۔ اس طرح تم اپنے اوپر اللہ کی أن لا تتردرو ا نعمة الله علیکم (رواه مسلم) نعمت کو حقیر نہ سمجھو گے۔ موجودہ دنیا میں کسی کو جو چیز ملتی ہے وہ آزمائش کے لیے ملتی ہے۔ آزمائش کی مصلحت کے تحت اللہ تعالی نے کسی کو کم دیا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کسی کو چھوٹا درجہ ملا ہے اور کسی کو بڑا درجہ ۔ اب اگر آدمی ایسا کرے کہ وہ اپنا مقابلہ اپنے سے اوپر والے شخص سے کرے تو وہ اپنے انعامات کو کم سمجھے گا، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر اپنے رب کے لیے شکایت کا جذبہ ابھرے گا نہ کہ شکر کا جذبہ ۔ حالانکہ جسد کو اپنے بندوں سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے وہ شکر ہی ہے۔ اپنے آپ کو اس عظیم محرومی سے بچانے کی تدبیر یہ ہے کہ آدمی اپنا مقابلہ ہمیشہ اس شخص سے کرے جس کو اس سے کم دیا گیا ہے۔ کوئی شخص صحت میں اس سے کم ہے ، کوئی ذہانت میں اس سے کم ہے ، کوئی دنیوی سازو سامان میں اس سے کم ہے۔ آدمی جب اپنا مقابلہ ایسے لوگوں سے کرے گا تو اس کے اندر اپنے رب کے لیے شکر کا جذبہ امڈے گا ۔ وہ اپنے اوپر خدائی انعامات کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے سامنے سجدہ میں گر جائے گا۔ شکر سب سے بڑی نیکی ہے۔ اس نیکی کو حقیقتاً طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے ذہن کی حفاظت کرے۔ وہ اپنی سوچ کو ناشکری کے رخ پر جانے سے بچائے۔ وہ اپنے ذہن کو ہمیشہ اس رخ پر چلائے جس کے نتیجہ میں اس کے اندر شکر کے احساسات ابٹنے والے ہوں۔ جو آدمی اس طرح اپنی حفاظت نہیں کرے گا وہ اپنے رب کو عین وہی تحفہ عبدیت پیش کرنے سے عاجز رہے گا جو اس کو سب سے زیادہ اپنے رب کے سامنے پیش کرنا تھا۔ اللہ کی نعمت پر شکر کرنا فرض ہے ، مگر اللہ کی نعمت پر وہی آدمی شکر کر سکے گا جو ملی ہوئی نعمت کی قدر دانی کرنا جانتا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page