Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمان و عمل عن ابی العالیة قال کان اصحاب رسول الله حضرت ابو العالیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میردن انہ لایضر علیہ وسلم کے اصحاب یہ خیال کرتے تھے کہ لا الہ الا اللہ مع لا الہ الا اللہ ذنب کما لا ینفع کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہ پہونچائے گا جس طرح مع الشرك عمل فنزلت (اطيعوا الله) شرک کے ساتھ کوئی عمل فائدہ نہیں پہونچاتا۔ اس واطيعوا الرسول ولا تبطلو اعمالكم) پر یہ آیت اتری: اے ایمان والو تم اللہ کی اطاعت فذا فوا ان يبطل الذنب العمل کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو (تفسیر ابن کثیر، الجز والرابع صفحہ ۱۸۱) ضائع نہ کرو (محمد ۳۳) اس کے بعد وہ ڈرنے لگے کہ گناہ عمل کو باطل کر دیتا ہے۔ ایمان ایک قسم کا معاہدہ ہے۔ بندہ جب ایمان کے الفاظ اپنی زبان سے دہراتا ہے تو وہ اللہ سے یہ اقرار کرتا ہے کہ وہ ایک اللہ کو اپنا بڑا جانے گا۔ وہ اپنے قول و عمل میں صرف اس طریقہ کی پیروی کرے گا جو اللہ نے اپنے رسول کے ذریعہ بتایا ہے۔ اب اگر ایسا ہو کہ ایک شخص معاہدہ کے الفاظ تو بول دے مگر اپنے حقیقی رویہ میں وہ اس کی خلاف ورزی کرے تو اس کا معاہدہ اللہ کی نظر میں باطل ہو جائے گا۔ وہ اس کو کچھ فائدہ نہ پہونچا سکے گا۔ وہی ایمان قابل اعتبار ایمان ہے جو آدمی کو اپنی پکر میں لے لے۔ آدمی بولے تو وہی بولے جو ایمان کے مطابق اسے بولنا چاہیے۔ آدمی کرے تو وہی کرے جو ایمان کے مطابق اسے کرنا چاہیے اس کا ایمان اس کی زندگی کے اوپر حاکم بن جائے۔ دنیا کا ہر معاہدہ اپنے عمل کے اعتبار سے جانچا جاتا ہے۔ اگر معاہدہ اور عمل میں مطابقت ہے تو معاہدہ برقرار رہتا ہے۔ ورنہ معاہدہ توڑ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایمان کے معاہدہ کو بھی عمل کے اعتبار سے جانچا جائے گا۔ اگر آدمی کا عمل اس کے ایمان کے مطابق ہے تو اللہ اس کے معاہدہ ایمان کو قبول کرے گا۔ ورنہ وہ اس کو رد کر دے گا۔ ایسا ایمان اللہ کے یہاں بے قیمت قرار پائے گا جس کے ساتھ عمل شامل نہ ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page