ربانی انسان
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
غصّہ نہیں عن أبي هريرة ، أنّ رجلاً قال للنبی صلی اللہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علیہ وسلم أوصنی - قال لا تغضب - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ فردّد مراراً - قال لا تغضب - نے فرمایا کہ غصّہ نہ کر۔ اس نے بار بار پوچھا۔ آپ نے ہر بار فرمایا کہ غصّہ نہ کر۔ ( رواہ البخاری ) ایک آدمی جب دوسروں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے تو بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب اس کے دل کو تکلیف پہنچتی ہے۔ اس کی انا کو جھٹکا لگتا ہے۔ اس کو دوسروں کے قول یا عمل کے بارے میں شکایت ہو جاتی ہے۔ اس کو دوسروں کی طرف سے تلخ تجربہ پیش آتا ہے۔ ایسے مواقع پر ایک طریقہ یہ ہے کہ آدمی غصہ ہو جائے۔ وہ نفرت اور انتقام کے جذبات کے تحت لوگوں سے معاملہ کرنے لگے۔ یہ منفی رد عمل کا طریقہ ہے، اور منفی رد عمل سے اسلام میں منع کیا گیا ہے۔ منفی ردعمل کسی بھی حال میں پسندیدہ نہیں۔ غصہ کسی کو اس وقت آتا ہے جب کہ اس کو غصہ دلایا جائے۔ اس لیے حدیث کا پورا مطلب یہ ہوگا کہ تم کو غصہ دلایا جائے تب بھی تم غصہ نہ ہو۔ تمہارے ساتھ اشتعال انگیزی کی جائے تب بھی تم اپنے آپ کو جوابی اشتعال سے بچاؤ۔ اسلام میں یہ مطلوب ہے کہ غصہ دلانے والا فعل کیا جائے تب بھی آدمی غصہ نہ کرے۔ تلخ تجربات کی بنا پر اس کے دل کو جھٹکا لگے تو وہ اس کو اپنے سینہ کے اندر برداشت کر لے، وہ اس کو دوسرے کی طرف نہ لوٹائے۔ مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غصہ کو اپنے اوپر رکھے۔ وہ اشتعال انگیزی کے موقع پر صبر کا ثبوت دے۔ غصہ نہ کرنے والا اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ عظیم ترین اسلامی عمل انجام دے۔ وہ برائی کا جواب بھلائی سے دے۔ وہ تکلیف پہنچانے والے کے حق میں نیک دعائیں کرے۔ وہ دشمنی کرنے والے سے دوست جیسا سلوک کرے۔ وہ نفرت کرنے والے کو محبت کا تحفہ پیش کرے۔ وہ اپنے بدخواہوں کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کر کے اپنے انسانی درجہ کو بلند کر لے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader