ربانی انسان
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
بسم الله الرحمن الرحيم آپ قرآن کو کھولتے ہیں تو سب سے پہلا لفظ جو پڑھنے کے لیے ملتا ہے، وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہے۔ یعنی میں شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ یہ کلمہ ہر کام کو شروع کرتے ہوئے پڑھا جائے ۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کُلُّ امرلا يبدأ فيه ببسم الله الرحمن الرحيم فهو اجذم (ہر کام جس کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ شروع نہ کیا جائے وہ بے اصل ہے) یہ کلمہ آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ تم جس دنیا میں اپنا کام کرنے جا رہے ہو وہ ایک ایسے خدا کی دنیا ہے جو رحمت اور مہربانی کی حد تک انسان کا مددگار ہے۔ اس لیے اس خدا کو یاد کرو اور اس خدا سے مدد طلب کرتے ہوئے اپنا کام شروع کرو۔ ایک شخص جب خدا کو پالے تو وہ خدا کی عظمتوں میں جینے لگتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اس دنیا میں ساری حیثیت خدا کو حاصل ہے۔ اس کو جو کچھ ملے گا، خدا سے ملے گا۔ اور اگر خدا نہ دے تو اسے کچھ ملنے والا نہیں۔ کام شروع کرتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا اسی مومنانہ احساس کا اظہار ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا گویا خدا کی خدائی کا اعتراف ہے۔ یہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ خدا کو یاد کرنا ہے۔ یہ خدا کے بارہ میں اپنے اس یقین کو دہرانا ہے کہ وہ قادر مطلق بھی ہے اور رحمان و رحیم بھی، اس لیے وہ اپنے بندہ کی ضرور مدد فرمائے گا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہے بغیر کام شروع کرنا اپنی ذاتی بنیاد پر کام شروع کرنا ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر کام شروع کرنا خدا کی بنیاد پر کام شروع کرنا۔ خدا کی دنیا میں اپنی بنیاد پر کام شروع کرنا حقیقت فراموشی ہے، اور خدا کی دنیا میں خدا کی بنیاد پر کام شروع کرنا حقیقت پسندی ۔ پہلا شخص ایک بھٹکا ہوا آدمی ہے ، اس کے لیے منزل پر پہونچنا مقدر نہیں۔ دوسرا شخص صحیح راستہ کا مسافر ہے ۔ وہ ایک نہ ایک دن ضرور اپنی منزل پر پہونچ جائے گا۔ خدا کا نام کائنات میں عظیم ترین حقیقت کے طور پر لکھا ہوا ہے ۔ انسان جب اس غیر ملفوظ کلام کو پڑھ کر اس کو ملفوظ صورت میں کہہ اٹھے تو یہی وہ عمل ہے جس کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader