Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

حمد اللہ کے لیے قرآن کی پہلی سورہ کا پہلا جملہ ہے الحمد للہ رب العالمین (تمام شکر اور تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے عالم کا رب ہے) حمد ایک اعتبار سے خلاصہ قرآن اور خلاصہ دین ہے۔ دین کو پوری طرح پالینے کے بعد ایک مومن کا احساس جس کلمہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، وہ یہی حمد کا کلمہ ہے۔ انسان کا وجود اس کے حق میں خدا کی ایک نعمت ہے۔ انسان کا انتہائی موزوں جسم خدا کی نعمت ہے۔ پوری دنیا خدا کی نعمت ہے جو انسان کے لیے بے حد موافق انداز میں بنائی گئی ہے آدمی پر جب یہ حقیقت کھلتی ہے اور وہ خدا کی بے پایا ں نعمتوں کا احساس کرتا ہے تو اس کی روح شکرِ خداوندی کے جذبے سے بھر جاتی ہے۔ اس کا دل و دماغ خدا کی عظمتوں کے ادراک سے سرشار ہو جاتا ہے۔ اس وقت آدمی کی زبان سے بے اختیارانہ طور پر اپنے خالق و مالک کے لیے اعتراف کا کلمہ نکل پڑتا ہے۔ الحمد للہ رب العالمین یہی کلمہ اعتراف ہے۔ خداوند ذو الجلال اس سے زیادہ بلند ہے کہ انسان اسے کوئی چیز دے سکے۔ واحد چیز جو کوئی انسان اپنے رب کے حضور میں پیش کر سکتا ہے وہ صرف اعتراف ہے۔ سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ آدمی کی روح خدا کے عظمت و جلال کے احساس سے بھر جائے ۔ وہ اپنی عبدیت کے مقابلہ میں خدا کی ربوبیت کو پہچانے۔ وہ اپنے عجز کے مقابلہ میں خدا کے کمالات کا اقرار کرے ۔ وہ اپنی بے مائیگی کے مقابلہ میں خدا کے احسانات کو ماننے والا بن جائے ۔ جب آدمی خدا کو اس کی ان صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کی روح اس کے آگے جھک جاتی ہے ۔ اس کی پوری ہستی خدا کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔ خدا کے احسانات کا احساس اس کے اندر سمندر کی طرح اہل پڑتا ہے۔ یہ کیفیت جب الفاظ کی صورت میں ڈھلتی ہے تو اسی کا نام حمد اور شکر ہے۔ خدا تمام کائنات کی سب سے بڑی ہستی ہے۔ کائنات ہر طرف دکھائی دیتی ہے۔ مگر خدا کی عظیم تر بڑائی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اس چھپی ہوئی بڑائی کو پالینے کا نام معرفت ہے اور معرفت کے اس احساس کا لفظوں میں ڈھل جانا احمد للہ رب العالمین۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page