الربَّانِيَّةُ
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
دیباچہ ہر چیز کا ایک رأس الامر ہوتا ہے ۔ یعنی معاملہ کا سرا ۔ ظاہری طور پر کوئی چیز مختلف روپ میں دکھائی دے سکتی ہے ۔ مگر اس کا بنیادی تصور ہمیشہ ایک رہتا ہے ۔ اس کے تمام مظاہر اور اس کے دوسرے تمام پہلو اسی ایک بنیادی تصور یا رأس الامر سے جڑ کر اپنے کل کا حصہ بنتے ہیں ۔ کسی چیز کا جو رأس الامر ہو ، اسی کے مطابق اس کے تمام معاملات انجام دیئے جاتے ہیں ۔ مثلاً تجارت کا رأس الامر نفع (profit) ہے۔ چنانچہ تجارت کی تمام کارروائیاں اسی بنیاد پر عمل میں لائی جاتی ہیں کہ ان سے نفع حاصل ہو۔ کوئی تاجر اگر اس رأس الامر کو کھو دے تو اس کی تمام تجارتی سرگرمیاں بے معنی ہو کر رہ جائیں گی۔ کسی اور اعتبار سے ان کی جو بھی اہمیت ہو ، مگر تجارت کے اعتبار سے ان کی کوئی اہمیت نہ ہوگی ۔ اسی طرح دین کا ایک رأس الامر ہے ، اور وہ اللہ کا خوف ہے۔ قرآن کے مطابق ، اللہ کا علم آدمی کے اندر خشیت کا مزاج پیدا کرتا ہے (فاطر ۲۸) آدمی کے اندر جب خوف کے درجہ میں اللہ سے تعلق پیدا ہو جائے تو اس کا تمام فکر و عمل درست ہو جاتا ہے۔ اور اگر خوف کے درجہ میں اللہ سے تعلق پیدا نہ ہو تو آدمی کا تمام فکر و عمل غلط ہو کر رہ جائے گا۔ عبداللہ بن مسعود کا قول ہے کہ اللہ کا ڈر حکمت کا سرا ہے (رأس الحکمہ مخافۃ اللہ ابو العالیہ نے کہا کہ اللہ سے ڈرنے کا نام حکمت ہے ، کیوں کہ اللہ کا ڈر تمام حکمت کا سرا ہے (الحکمۃ خشية الله فان خشية الله رأس كل حكمة) تفسیر ابن کثیر ۱ / ۳۲۲ قرآن میں حکمت کو خیر کثیر کہا گیا ہے (البقرہ ۲۶۹) اس کی تشریح کرتے ہوئے الربیع بن انس نے کہا کہ حکمت اللہ کا خوف ہے (الحکمۃ الخشیۃ) الحسن نے کہا کہ حکمت پر ہیز گاری ہے (الحکمۃ الورع) تفسیر القرطبی ۳ / ۳۳۰ انسانی نفسیات کے اعتبار سے ، خوف سب سے زیادہ طاقت ور محرک ہے۔ خوف سب سے بڑا عامل ہے جو انسان کی پوری شخصیت کو کسی ایک رخ پر سرگرم کر دیتا ہے۔ دین کا اقرار کرنے والوں کے ذہن میں اگر یہ رأس الامر (خوف خدا) پوری طرح واضح ہو تو ان کی تمام دینی سرگرمیاں صحیح رخ پر جاری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader