Urdu book · الربَّانِيَّةُ

الربَّانِيَّةُ

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوں گی۔ اور اگر یہ رأس الامر ان کے ذہن سے اوجھل ہو جائے تو ان کی دینی سرگرمیاں بھی غیر متعلق راہوں میں بھٹک کر رہ جائیں گی۔ بظاہر باعمل ہو کر بھی وہ حقیقی دین کے اعتبار سے بے عمل قرار پائیں گے۔ خوف خدا کو رأس الامارماننے کے بعد یہ ہوگا کہ اہل دین کے اندر اپنا محاسبہ کرنے کا مزاج پیدا ہوگا۔ وہ موت کو زیادہ سے زیادہ یاد کریں گے ۔ اللہ کی عدالت میں پیشی کو سوچ کر ان کی روح کانپ اٹھے گی ۔ وہ زیادہ سے زیادہ کوشش کریں گے کہ اپنے قول اور اپنے عمل کو درست کریں تاکہ قیامت میں اللہ کی پکڑ سے بچ سکیں۔ خوف خدا کو رأس الامر سمجھنے کا دوسرا اظہار وہ ہے جو غیر قوموں کے معاملہ میں پیش آتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر میں دوسری قوموں پر کرنے کا جو سب سے بڑا کام دکھائی دے گا وہ انذار و تبشیر ہے۔ یعنی ان کو یہ یاد دلانا کہ تم اللہ کے بندے ہو۔ تم کو دنیا میں اللہ کا اطاعت گزار بن کر رہنا ہے۔ اگر تم نے اطاعت گزاری کے بجائے نافرمانی کا رویہ اختیار کیا تو قیامت میں تم اللہ کی پکڑ کی زد میں آجاؤ گے۔ اور پھر کوئی بچانے والا نہ ہوگا جو تم کو بچا سکے۔ اس انذار و تبشیر کی اہمیت ان کی نظر میں اتنی زیادہ ہوگی کہ اس کی خاطر وہ ہر دوسری چیز کو نا قابل لحاظ قرار دے کر اس کو نظر انداز کر دیں گے ۔ یہ رأس الامر آدمی کی پوری زندگی کو تقویٰ رخی بنا دے گا۔ ایسا آدمی جو عمل بھی کرے گا ، خواہ یہ عمل دنیا کی نسبت سے ہو یا دین کی نسبت سے ، سب کا سب تقویٰ میں نہایا ہوا ہو گا ۔ اس کی ہر سرگرمی خوف خدا کے بنیادی تصور سے جڑی ہوئی ہوگی ۔ اس کا پورا نقشہ حیات خوف خدا پر مبنی نقشہ حیات ہوگا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ کی معرفت آدمی کو ڈرنے والا انسان بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سچا دین آدمی کے اندر ذاتی اعتبار سے محاسبہ خویش کا ذہن ابھارتا ہے ، اور دوسروں کے اعتبار سے انذار آخرت کا ذہن ۔ دین دار انسان کی پوری زندگی جس مرکزی تصور کے تحت ڈھلتی ہے وہ یہی اللہ کا خوف ہے۔ سچا دین دار وہی ہے جو دینِ خشیت پر قائم ہو گیا ہو۔ وحید الدین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page