ربانی انسان
Urdu book, p. 66
By Maulana Wahiduddin Khan
سادگی ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ایک روز اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم لوگ سنتے نہیں ، کیا تم لوگ سنتے نہیں ۔ بے شک سادگی ایمان سے ہے، بے شک سادگی ایمان سے ہے (اَلَا تَسْمَعُونَ اَلَا تَسْمَعُونَ اِنَّ الْبَدَادَةَ مِنَ الْاِيْمَانِ اِنَّ الْبَدَادَةَ مِنَ الْاِيْمَانِ) مومن جب اللہ کی عظمت کو دریافت کرتا ہے تو اس کے مقابلہ میں اپنا وجود اس کو بالکل عاجز دکھائی دینے لگتا ہے ۔ یہ احساس اس کے اندر آخری حد تک تواضع کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے ۔ اس کا پورا وجود عبدیت کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ۔ اس کی آواز نرم پڑ جاتی ہے۔ اس کی رفتار پست ہو جاتی ہے ۔ اس کے پورے رویہ پر سنجیدگی کا انداز چھا جاتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا مزاج سادگی کا مزاج بن جاتا ہے ۔ کھانے ، کپڑے ، مکان ، ہر چیز میں اس کو سادگی کا طریقہ پسند آنے لگتا ہے۔ نمائش چیزوں سے اس کو وحشت ہو جاتی ہے ۔ اس کی روح کو سادگی میں لذت ملتی ہے نہ کہ تکلفات میں ۔ ایمان آدمی کو مصنوعی چیزوں سے ہٹا کر فطرت کی طرف لے جاتا ہے ، اور فطرت کی دنیا میں سادگی ہی سادگی ہے ، وہاں بناوٹ کے لیے کوئی جگہ نہیں ۔ سادگی مومن کا مزاج اور اس کا لباس ہے ۔ ایمان آدمی کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے ، اس کو ایک لفظ میں فطری سادگی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ فطرت کی سطح پر سادگی ہی سادگی ہوتی ہے۔ اسی طرح فاطر کائنات کا شعور آدمی کے اندر جو مزاج بناتا ہے وہ بھی تمام تر سادگی ہوتا ہے ۔ مومنانہ سادگی کا یہ مزاج قدرتی طور پر اس کے ظاہری رویہ میں بھی شامل ہو جاتا ہے ۔ اس کو سادہ کپڑے پسند آتے ہیں ۔ سادہ رہن سہن میں اسے لذت ملتی ہے ۔ سادہ گھر اور سادہ ساز و سامان میں اس کو سکون ملتا ہے ۔ سادہ ماحول میں رہنا اس کے لیے محبوب ترین چیز بن جاتا ہے۔ مومن ایک سادہ انسان ہوتا ہے ، اپنے اندرونی احساسات کے اعتبار سے بھی اور اپنے ظاہری معاملات کے اعتبار سے بھی ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader