Urdu book · الربَّانِيَّةُ

ربانی انسان

Urdu book, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

نیند سے اٹھنا حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب سونے کے لیے بستر پر جاتے تو فرماتے : اَللّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْيٰی (اے اللہ، میں تیرے نام سے مرتا ہوں اور تیرے نام سے جیتا ہوں) اور جب آپ سو کر اٹھتے تو فرماتے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْيَانَا بَعْدَمَا اَمَاتَنَا وَاِلَيْہِ النُّشُوْرُ (شکر اور تعریف ہے اللہ کے لیے جس نے ہم کو زندہ کیا موت دینے کے بعد اور اسی طرح قیامت کے دن دوبارہ اٹھنا ہے) جاگنا اور سونا آدمی کے لیے زندگی اور موت کی علامت ہے۔ دن کی بیداری کے بعد رات کے وقت آدمی جب سوتا ہے تو گویا وہ زندہ رہنے کے بعد مر جاتا ہے۔ پھر صبح کو جب وہ سو کر اٹھتا ہے تو یہ گویا اس حقیقت کی پیشگی اطلاع ہوتی ہے کہ اسی طرح آخری موت کے بعد آدمی دوبارہ زندہ ہوگا اور حساب کتاب کے لیے حشر کے میدان میں اکٹھا کیا جائے گا۔ دنیا میں آدمی کو اس طرح زندگی گزارنا ہے کہ یہاں کا ہر واقعہ اس کے لیے آخرت کی یاد دہانی بن جائے ، وہ ہر واقعہ میں آنے والی آخرت کی تصویر دیکھتا رہے۔ سونا اور جاگنا بھی اسی قسم کا ایک واقعہ ہے ۔ وہ آدمی کو زندگی بعد موت کی یاد دلاتا ہے۔ انسان کے معاملہ کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ ایک خاص عمر کے بعد جب وہ مرتا ہے تو وہ ختم نہیں ہو جاتا۔ اس کو ایک اور دنیا میں دوبارہ پیدا ہونا ہے۔ موجودہ دنیا عمل کی جگہ ہے، آنے والی دوسری دنیا انجام پانے کی جگہ ہوگی۔ اس کے بعد آدمی کی ابدی زندگی شروع ہوگی جو یا تو ہمیشہ کے لیے جنت ہوگی یا ہمیشہ کے لیے جہنم۔ یہ اہم ترین حقیقت آدمی کو روزانہ سونے اور دوبارہ جاگنے کی صورت میں یاد دلائی جاتی ہے۔ آدمی جب سوتے وقت اور پھر جاگنے کے بعد مذکورہ کلمات اپنی زبان سے ادا کرتا ہے تو وہ اس یاد دہانی کو اپنے شعور کا حصہ بناتا ہے ۔ وہ دنیا کے عمل کو آخرت کے تذکرہ میں تبدیل کر دیتا ہے۔ مومن کی سوچ آخرت رخی سوچ ہوتی ہے۔ اس لیے ہر دنیوی تجربہ مومن کے لیے آخرت کے تجربہ میں ڈھل جاتا ہے اور اسی طرح سونا اور جاگنا بھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page