اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان کی رسی عن ابی سعید، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ قال : مَثَلُ المُؤْمِنِ وَمَثَلُ الایمان کمثل وسلم نے فرمایا۔ مومن کی مثال اور ایمان کی مثال الفرس في آخيّتِه يجول ثم يرجع گھوڑے کی مانند ہے جو رسی میں بندھا ہوا ہو۔ وہ گھومتا الی آخيّته (رواہ البیہقی) ہے پھر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ایک گھوڑ آپانچ میٹر کی رسی میں بندھا ہوا ہو تو اس کی ساری حرکت رسی کی لمبائی کے بقدر ہوگی۔ وہ چاروں طرف گھومے گا مگر پانچ میٹر سے آگے نہ جاسکے گا۔ یہی مثال مومن کی ہے۔ مومن کا ایمان اس کے لیے حد بندی کے ہم معنی بن جاتا ہے ۔ وہ اتنا ہی جاتا ہے جتنا اس کا ایمان اس کو اجازت دے۔ ایمان کی حد آتے ہی وہ مجبور ہوتا ہے کہ فوراً ٹھہر جائے ۔ اس کا ایمان اس کو صرف حلال کمائی کی اجازت دیتا ہے۔ اس لیے وہ حلال دائرہ میں کماتا ہے اور جہاں حرام کا دائرہ شروع ہو وہاں وہ فوراً رک جاتا ہے۔ یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے۔ مومن کی زبان حق بات بولتی ہے، ناحق بات بولنے سے اس کی زبان رکی رہتی ہے۔ وہ انصاف کا معاملہ کرتا ہے، بے انصانی کا معاملہ کرنے سے اپنے آپ کو دور رکھتا ہے۔ اس کو کسی کے خلاف اظہار رائے کرنا ہو تو وہ دلائل کی بنیاد پر اظہار رائے کرتا ہے ، وہ عیب جوئی اور الزام تراشی کا طریقہ اختیار نہیں کرتا۔ اسی طرح مومن کا ایمان ہر معاملہ میں اس کی حد بندی کر دیتا ہے ۔ وہ قول و عمل کی تمام صورتوں کے لیے جائز اور ناجائز کا معیار قائم کر دیتا ہے۔ مومن مجبور ہوتا ہے کہ وہ صرف جائز دائرہ میں بولے اور جائز حد کے اندر عمل کرے۔ جہاں ناجائز کی حد آجاۓ وہاں اس کی زبان بند ہو جاتی ہے۔ اس کے پاؤں اس کے آگے بڑھنے سے رک جاتے ہیں۔ غیر مومن اگر اصول اور ضابطہ سے آزاد انسان ہے تو مومن اصول اور ضابطہ کی رسی میں بندھا ہوا انسان۔ غیر مومن اپنے آپ کو کسی کا ماتحت نہیں سمجھتا، مومن وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کا ماتحت بنائے ہوئے ہو۔ غیر مومن اپنی راے اور اپنی خواہش پر چلتا ہے، مومن اس کے برعکس ، خدا کے احکام اور ہدایات پر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader