اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
ذمہ دارانہ زندگی عن عبد اللہ بن عمر، قال قال رسول اللہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلَّكُمُ وسلم نے فرمایا کہ آگاہ، تم میں سے ہر شخص چرواہا ہے اور ہر مَسْئُولُ عَنْ رَعِيَّتِهِ (متفق علیہ) ایک سے اس کے گلہ کے بارہ میں پوچھا جائے گا۔ یہ حدیث ایک مثال کی صورت میں اس مومنانہ ذہن کو بتاتی ہے جس کے تحت ایک مومن کو اس دنیا میں زندگی گزارنا ہے۔ یہ مثال چرواہا ہے ۔ چرواہا ہر لمحہ اپنے آپ کو اپنے گلہ کا نگراں سمجھتا ہے۔ وہ ہر ایک جانور کے لیے اپنے آپ کو ذمہ دار خیال کرتا ہے۔ یہی مومن کی مثال ہے۔ مومن اس دنیا میں ایک ذمہ دار انسان کی طرح رہتا ہے۔ اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے فرائض سے بے خبر ہو کر زندگی گزارنے لگے۔ مومن ہر آن اپنا نگراں بنا رہتا ہے تاکہ جو چیزیں اس کے قبضہ میں دی گئی ہیں ان کے فرائض ادا کرنے میں اس سے کوئی کوتاہی نہ ہو۔ مومن وہ ہے جس کے اندر احساس فرض اس طرح جاگ اٹھے کہ وہ خود اپنے اندرونی احساس کے تحت ہر کام کو درست طور پر انجام دینے کی کوشش کرے، بغیر اس کے کہ کوئی افسر اس کے کام کو دیکھنے کے لیے اس کے پاس کھڑا ہوا ہو۔ ایک شخص عوام کا سردار ہے تو اس کے اوپر سارے عوام کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ہے۔ ایک شخص خاندان والا ہے تو اس کو اپنے خاندان کی نگرانی کا فرض ادا کرنا ہے۔ ایک عورت ہے تو اس کے اوپر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کو سنبھالے اور بچوں کی تربیت کرے۔ ایک شخص کسی کے یہاں ملازم ہے تو اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالک کے ساز و سامان کی رکھوالی کرے اور اس کی جو ڈیوٹی ہے اس کو اچھی طرح انجام دے۔ ایمانی زندگی، ایک لفظ میں، ذمہ دارانہ زندگی ہے۔ ہر آدمی جو اس دنیا میں ہے، وہ کچھ چیزوں کا مالک ہے، کچھ چیزیں اس کی تحویل میں دی گئی ہیں۔ یہ چیزیں گویا اس کا گلہ ہیں، اور وہ ان کا چرواہا ہے۔ خدا کی دی ہوئی ان چیزوں میں اس کو نگہبانی والا فرض ادا کرنا ہے۔ کامیاب وہ ہے جو سچا نگہبان بنے، اور نا کام وہ ہے جو اپنی چیزوں میں سچا نگہبان ثابت نہ ہو سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader