اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
صحیح رائے حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے : اللهم أرنا الحق حقاً وارزقنا اِتباعہ وأرنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ وأرنا الاشیاء کماھیٰ (اے اللہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس کو اختیار کرنے کی توفیق دے۔ اور ہمیں باطل کو باطل کی صورت میں دکھا اور ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے۔ اور ہمیں چیزوں کو ویسا ہی دیکھا جیسا کہ وہ ہیں) چیزوں کے بارہ میں رائے قائم کرنے کی دو صورتیں ہیں۔ ایک ہے بے لاگ رائے قائم کرنا۔ اور دوسرا ہے متاثر ذہن کے تحت رائے قائم کرنا۔ مومن کی سنجیدگی اور اس کا احساس ذمہ داری اُس کو اس سے روکتا ہے کہ وہ کسی چیز کے بارہ میں متاثرہ ذہن کے تحت ایک خلاف واقعہ رائے کر لے۔ وہ آخری حد تک یہ کوشش کرتا ہے کہ چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھے اور عین وہی رائے قائم کرے جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔ خلافِ واقعہ رائے قائم کرنے کے مختلف اسباب ہیں۔ کبھی انانیت اور مفاد پرستی جیسے جذبات صحیح سوچ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ کبھی ناقص معلومات کی بنا پر آدمی رائے قائم کرنے میں غلطی کر جاتا ہے۔ اس بنا پر مومن اس معاملہ میں بے چوکنا رہتا ہے۔ وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ چیزوں کو بے لاگ ذہن سے دیکھے۔ اس معاملہ میں اس کی سنجیدگی اتنی بڑی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ اللہ سے دعا کرنے لگتا ہے کہ اللہ اس کو غلط رائے قائم کرنے سے بچائے۔ چیزوں کو ویسا ہی دیکھنا جیسا کہ وہ ہیں، یہ صحیح سوچ کی لازمی شرط ہے، اور صحیح سوچ صحیح عمل کی لازمی شرط ہے۔ اس لیے مومن اس معاملہ میں بے حد حساس ہوتا ہے۔ وہ اس کا سخت اہتمام کرتا ہے کہ اس کی سوچ واقعہ کے خلاف نہ ہو۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ خلافِ واقعہ سوچ کا سب سے زیادہ نقصان خود اس کو اٹھانا پڑے گا۔ مومن سے یہ مطلوب ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھے۔ ایسی نظر کسی آدمی کو اس وقت ملتی ہے جب کہ وہ اپنے ذہن کو ہر قسم کے منفی رجحانات سے خالی کر لے۔ دوسروں کی طرف سے ناخوش گواری کا تجربہ ہو تب بھی وہ اپنے آپ کو اعتدال پر قائم رکھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader