اسلامی اخلاق
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
اچھا گمان قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ دوسرے مومن کے بارہ میں نیک گمان کرے (النور ۱۲) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ ظن سے بچو، کیوں کہ ظن سب سے بڑا جھوٹ ہے (ایاکم والظن فان الظن اکذب الحديث، متفق علیہ) مومن کا طریقہ یہ ہے کہ اصلا وہ لوگوں کے بارہ میں اچھا خیال رکھے۔ حتیٰ کہ اگر اس کو کسی کے بارہ میں برائی کا شبہ ہو تو وہ اس کا تجسس بھی نہ کرے۔ اگر اس کے علم میں کسی کی کوئی ایسی بات آئے جو بظاہر ٹھیک نہ ہو تب بھی وہ اچھا گمان کرتے ہوئے اس کو نظر انداز کر دے۔ وہ سارے معاملے کو خدا کے حوالے کر دے۔ مومن کسی کے بارہ میں غلط رائے صرف اس وقت قائم کرتا ہے جب کہ آخری اور حتمی طور پر وہ چیز ثابت شدہ بن چکی ہو۔ مومن کا نظریہ دوسروں کے بارہ میں یہ ہوتا ہے کہ اچھی رائے قائم کرنے میں غلطی کر جانا اس سے بہتر ہے کہ میں بری رائے قائم کرنے میں غلطی کروں۔ گمان کی بنیاد پر کسی کے بارہ میں بری رائے قائم کرنا محض ایک سادہ سی بات نہیں ہے۔ وہ ایک اخلاقی جرم ہے جو اللہ کے نزدیک سخت سزا کا سبب ہے۔ اس لیے مومن اس قسم کی رائے زنی سے آخری حد تک بچتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے بچانے کے لیے دوسرے کا محافظ بن جاتا ہے۔ اکثر حالات میں کسی انسان کے پاس وہ پوری معلومات موجود نہیں ہوتیں جو کسی مسئلہ میں صحیح رائے قائم کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس لیے کسی آدمی کے لیے محتاط رویہ یہی ہے کہ وہ ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کر لے۔ اگر وہ کسی معاملہ میں بولنا ضروری سمجھتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کی مکمل تحقیقات کرے۔ اس کے بعد ہی اس معاملہ میں اس کا بولنا حق بجانب قرار دیا جا سکتا ہے۔ مومن اپنے بارہ میں سخت اور دوسرے کے بارہ میں نرم ہوتا ہے۔ وہ اپنی کوتاہیوں پر سختی سے اپنا محاسبہ کرتا ہے، مگر دوسروں کی قابل گرفت باتوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ وہ اپنے کو عزیمت کے معیار سے جانچتا ہے اور دوسروں کو رخصت کے معیار سے۔ اچھا گمان مومنانہ روش ہے اور برا گمان غیر مومنانہ روش۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader