آیاتِ بینات
Urdu book, p. 80
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمت کی بات امام ابوداؤد (۲۰۲ - ۲۷۵ھ) قندھار کے قریب سجستان کے رہنے والے تھے۔ وہ امام احمد بن حنبل کے شاگردوں میں سے تھے۔ ان کا قول ہے کہ میں نے طویل اسفار کے بعد پانچ لاکھ حدیثیں لکھیں ان میں سے چار ہزار آٹھ سو حدیثوں کو منتخب کر کے سنن ابی داؤد میں درج کیا۔ تاہم امام موصوف نے لکھا ہے کہ آدمی اگر ان میں سے چار حدیثوں کو پکڑ لے تو وہ اس کے دین فہم کے لئے کافی ہو جائے، ےپںددیھ انما الاعمال بالنيات من حسن اسلام المرء تركه ما لا يعنيـه لايكون المومن مومنا حتى يرضى لاخيه ما يرضاه لنفسه الحلال بين والحرام بين وبين ذلك امور مشتبهات فمن اتقى الشبهات استبرأ لدينه عمل کا دار و مدار نیت پر ہے۔ بہتر اسلام یہ ہے کہ آدمی بے فائدہ بات بولنا چھوڑ دے کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان شبہ کی چیزیں ہیں جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنے دین کو بچالیا۔ امام ابوداؤد کے بہت نہایت قیمتی اقوال ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں : الشهوة الخفية حب الرياسة خيرا الكلام ما دخل الاذن بدون اذن من اقتصر على لباس دون ومطعم دون اراح جسده پوشیدہ شہوت یہ ہے کہ آدمی سرداری کو پسند کرنے لگے۔ بہترین بات وہ ہے جو کان میں بلا اجازت داخل ہو جائے ۔ جس شخص نے کمتر لباس اور کمتر کھانے پر قناعت کی اس نے اپنے جسم کو آرام پہنچایا۔ ایمان اگر آدمی کے اندر گہرائی کے ساتھ پیدا ہو جائے تو وہ ساری اہمیت صرف حقیقت کو دینے لگے گا۔ بے فائدہ باتوں سے اسے دلچسپی نہ رہے گی۔ اپنے اور غیر کا فرق اس کی نظر میں ختم ہو جائے گا۔ اس کی حساسیت اتنی بڑھ جائے گی کہ وہ شبہ کی چیزوں سے بھی بچنے لگے گا۔ اور اپنے کو بڑا بنانے کا جذبہ اس کے اندر باقی نہ رہے گا۔ وہ ایسی بات بولے گا جو سیدھی لوگوں کے دلوں تک پہنچے۔ اس کی زندگی بالکل سادہ زندگی بن جائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader