آیاتِ بینات
Urdu book, p. 81
By Maulana Wahiduddin Khan
علم العلماء ورثۃ الانبیاء (حدیث) علما پیغمبروں کے وارث ہیں۔ اللہم ارحم خلفائی۔ قلنا من خلفاؤك اے اللہ، میرے خلفا پر رحم کر۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ۔ قال الذین يحفظون سنّتی اے خدا کے رسول ، کون لوگ آپ کے خلفا ہیں۔ ويعلمونها للناس (حدیث) آپ نے کہا کہ وہ لوگ جو میری سنت کی حفاظت کریں گے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیں گے۔ ليس شئی اعز من العلم الملوك علم سے زیادہ طاقت ور کوئی چیز نہیں۔ بادشاہ عوام حكام على الناس والعلماء حكام على پر حکومت کرتے ہیں اور علم والے لوگ بادشاہوں الملوك ( ابو الاسود) پر حکومت کرتے ہیں۔ عن عون بن عبدالله قال قلت لعمر بن عون بن عبد اللہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے کہا عبد العزيز يقال : ان استطعت ان تكون کہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم عالم بن سکتے ہو تو بنو۔ اگر عالم عالماً فكن ۔ فان لم تستطع فكن متعلما۔ فان لم نہیں بن سکتے تو طالب علم بنو ۔ اگر تم طالب علم نہیں تكن متعلماً فاحبهم۔ فان لم تحبهم بن سکتے تو ان سے محبت کرو۔ اگر تم ان سے محبت ولا تبغضهم۔ فقال عمر سبحان الله نہیں کر سکتے تو ان سے بغض نہ رکھو۔ حضرت عمر بن لقد جعل الله له مخرجاً عبد العزیز نے یہ سن کر کہا سبحان اللہ۔ اس کو خدا نے راستہ دیدیا۔ علامہ شاطبی نے لکھا ہے مستحب ، مندوب ، فرض ، اور مکروہ اور حرام کی جو تقسمیں ہیں ، تقرب الی اللہ اور تزکیہ نفس کے سلسلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیوں کہ اصل مقصود تزکیہ نفس ہے ، جو چیز تزکیہ نفس میں مدد دے وہی اہم ہے ، چاہے وہ مستحب ہو یا فرض۔ اور جو برائی کی طرف لے جائے وہ ممنوع ہے ، خواہ وہ مکروہ ہو یا حرام۔ شاطبی، الموافقات، المكتبة التجارية الكبرى، القاهرة، جلد ۳ صفحه ۴۱ افضل العلم الورع والتفکر (حسن بصری) افضل علم پر ہیزگاری اور غور و فکر ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader