Urdu book · الربَّانِيَّةُ

آیاتِ بینات

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

اُس دن قرآن میں آخرت کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ جس دن پنڈلی کھولی جائے گی اور لوگ سجدہ کرنے کے لیے بلائے جائیں گے تو وہ سجدہ نہ کر سکیں گے۔ (يوم يكشف عن ساق و يدعون الى السجود فلا يستطيعون، القلم) یہاں کشف ساق (پنڈلی کھولنے) کا لفظ استارہ کے طور پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ تمام حقیقتیں کھول دی جائیں گی جو موجودہ دنیا میں امتحان کی مصلحت سے چھپا دی گئی ہیں۔ العوفی نے عبداللہ بن عباس سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس آیت کی تشریح میں کہا کہ جب معاملہ سے پردہ ہٹا دیا جائے گا اور تمام اعمال ظاہر ہو جائیں گے (حسین يكشف الامر وتقيد الاعمال، تفسیر ابن کثیر) جو شخص لوگوں کو دکھانے کے لیے یا ذاتی فائدہ کے لیے دینی زندگی اختیار کرے وہ جھوٹا دیندار ہے۔ مگر دنیا میں یہ حقیقت چھپی رہتی ہے۔ اس لیے یہاں جھوٹے دیندار کو بھی وہی عزت مل جاتی ہے جو سچے دیندار کو ملنی چاہیے ۔ مگر آخرت میں اس قسم کا فریب ممکن نہ ہوگا۔ آخرت کے بدلے ہوئے حالات میں ایسے لوگ بالکل بے جگہ ہو جائیں گے ۔ دنیا میں بناوٹی باتیں کرکے مقبولیت حاصل کرنے والے آخرت میں اپنے آپ کو بے زبان محسوس کریں گے، کیوں کہ آخرت میں تمام اہمیت صرف قول سدید کی ہوگی ، اور اس قسم کے کلام کے لیے وہ لوگ اپنے آپ کو وہاں نااہل پائیں گے۔ مادی چیزوں کی بنیاد پر بڑائی حاصل کرنے والے وہاں چھوٹے ہو جائیں گے ، کیوں کہ آخرت میں صرف روحانی چیزوں میں عظمت ہوگی۔ دوسری تمام چیزیں اس روز اپنی عظمت کھو دیں گی۔ غیر حقیقی مسائل کا نعرہ لگا کر بھیڑ جمع کرنے والے وہاں تنہا ہو جائیں گے ، کیوں کہ آخرت میں لوگوں کی توجہ کا مرکز صرف وہ چیزیں ہوں گی جو حقیقی طور پر با معنی حیثیت رکھتی ہوں ۔ دنیا میں آدمی سچائی کو نظر انداز کرکے اونچے مقامات پاتا ہے ، آخرت میں سچائی کا اعتراف کرنے والا اونچے مقامات کو پائے گا۔ دنیا میں خیانت کرکے آدمی مال کا مالک بنتا ہے ، آخرت میں دیانت و امانت وہ چیز ہوگی جو آدمی کو صاحب سرمایہ بنائے۔ دنیا میں انسانوں کو خوش کرکے مفادات حاصل ہوتے ہیں ، آخرت میں خدا کو خوش کرنا آدمی کو تمام مفادات کا مالک بنائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page