حکمتِ دین
Urdu book, p. 94
By Maulana Wahiduddin Khan
غلاف کعبہ کعبہ کے اوپر غلاف ڈالنے کا رواج قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کیا تھا ، اس کے متعلق تاریخ کا بیان یہ ہے : كان من الطبيعى ان لا يشارك الرسول عليه الصلاوة والسلام ومعه المسلمون فى كساء الكعبة قبل الفتح - ذالك ان المشركين من قريش لم يتيحوالهم هذا الامرالى ان تم فتح مكة فابقى عليه الصلاوة والسلام على كسوة الكعبة ولم يستبدلها حتى احترقت على يد امرأة كانت تريد تبخيرها فكساها الرسول صلى الله عليه وسلم بالثياب اليمانية - ثم كساها الخلفاء الراشدون من بعده بالقباظي الفيصل (رياض) ذو الحجہ ۱۴۰۴ھ مطابق اگست ۱۹۸۴ء، صفحہ ۶۱ یہ ایک قدرتی بات تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اس وقت کے مسلمان فتح مکہ سے پہلے کعبہ کی غلاف پوشی نہ کر سکے۔ کیونکہ قریش کے مشرکین نے انھیں اس کا موقع نہیں دیا۔ تاہم فتح مکہ کے بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے سابقہ غلاف کو باقی رکھا اور اس کو تبدیل نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ایسا ہوا کہ کعبہ کے غلاف میں ایک عورت کے ہاتھ سے آگ لگ گئی اور وہ جل گیا۔ یہ عورت اس کو خوشبو پہنچانے کے لیے دھونی دے رہی تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمنی کپڑوں کا ایک غلاف کعبہ کے اوپر اوڑھایا۔ آپ کے بعد خلفار راشدین قبطی کپڑے کا غلاف کعبہ کے اوپر ڈالتے رہے۔ فتح مکہ کے وقت کعبہ کے اوپر جو غلاف تھا وہ دشمنوں اور کافروں کا بنایا ہوا تھا۔ یہ مقدس قبلہ پر غیر مقدس قبضہ کی یادگار تھا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا کہ اس کو "ناپاک" قرار دے کر فوراً اس کو بدلنے کا حکم دیدیں۔ آپ نے سابقہ غلاف کو باقی رکھا اور اس کو صرف اس وقت بدلا جب کہ جل جانے کی وجہ سے اس کا بدلنا ایک ضرورت بن گیا۔ اصلاح کا مسنون اسلامی طریقہ یہ ہے کہ ڈھانچہ کو غیر ضروری طور پر توڑے بغیر فطری انداز میں اصلاحات کا نفاذ کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader