حکمتِ دین
Urdu book, p. 95
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا طریقہ عن ابی ھریرۃ، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وسلم أمرتُ بقرية تأكل القرى، يقولون نے فرمایا۔ مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، وہ بستیوں کو کھایا جائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں يثرب وهي المدينة۔ اور وہ مدینہ ہے۔ (اخرجہ البخاری ومسلم والموطا) اس حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک اصولی بات کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے۔ وہ یہ کہ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو اگرچہ ایک متعین صورت میں بیان کی جاتی ہیں۔ مگر اصلاً وہ باعتبار حقیقت مطلوب ہوتی ہیں نہ کہ باعتبار صورت۔ اس کی ایک مثال بنو قریظہ کے واقعہ میں ملتی ہے۔ غزوہ احزاب کے بعد جب آپ نے یہودی قبیلہ بنو قریظہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو آپ نے اس کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز بنو قریظہ تک پہچنے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے۔ (لا يُصَلِّيَنَّ احد العصر الا في بني قريظة) لوگ مدینہ سے نکل کر روانہ ہوئے۔ مگر جب دیر ہونے لگی تو کچھ لوگوں نے راستہ ہی میں عصر کی نماز پڑھ لی، اور کچھ لوگوں نے حکم کی لفظی تعمیل کرتے ہوئے بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ کر نماز ادا کی۔ جن لوگوں نے راستہ میں نماز پڑھ لیں۔ انھوں نے بظاہر حکم رسول کے خلاف کیا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باز پرس نہیں کی، بلکہ دونوں کے عمل کی تصویب فرمائی۔ اس کی توجیہ کرتے ہوئے محقق علما ر نے لکھا ہے کہ جن لوگوں نے وقت آنے پہ راستہ میں نماز پڑھ لی وہ غلطی پر نہ تھے۔ کیوں کہ انھوں نے سمجھا کہ آپ کی اصل مراد بنو قریظہ کی طرف جانے میں جلدی کرنا ہے نہ کہ نماز میں دیر کرنا (لانہمم فهموا ان المراد انما هو تعجيل السير الى بني قريظة لا تاخير الصلوة ، السيرة النبوية لابن كثير ، المجلد الثالث ، صفحه (۲۲) اسلامی طریقہ یہ ہے کہ مقصد کے حصول کی ایک تدبیر اگر کارگر نہ ہورہی ہو تو اس کو بدل کر دوسری تدبیر کے ذریعہ مقصد تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ اس اصول کے تحت کبھی مقام عمل کو بدلا جاتا ہے، جیسے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت۔ اور کبھی میدانِ عمل کو بدلا جاتا ہے، جیسے حدیبیہ کے معاہدہ کے ذریعہ جنگ کے میدان سے ہٹ کر دعوت کے میدان میں سرگرم ہونا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader