حکمتِ دین
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
تبدیلی کا اصول اسلام سے پہلے عرب کے زمانہ کو جاہلیت کا زمانہ کہا جاتا ہے ۔ اس زمانہ میں ایک بار مکہ کے لوگوں میں جھگڑا ہوا۔ یہاں تک کہ جنگ کی تیاریاں ہونے لگیں۔ یہ جھگڑا اس بات پر تھا کہ مکہ کے بڑے مناصب ( السقایة ، الحجابة ، اللواء ، الندوة ) کس کے پاس رہیں۔ آخر کچھ سنجیدہ لوگوں کی کوشش سے اس پر صلح ہوگئی کہ حجابہ اور لواء اور ندوہ بنوعبدالدار کے پاس رہے ۔ اور سقایہ اور رفادہ بنو عبد مناف کو دیدیا جائے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں : فلم یزالوا علی ذلک حتی جاء اللہ تعالی وہ لوگ اس پر قائم تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بالاسلام۔ فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: نے اسلام بھیجا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ ما كان من حلف في الجاهلية فإن علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو بھی معاہدہ تھا، الاسلام لم يزده إلا شدة اسلام نے اس کے سوا کچھ اور نہیں کیا ہے کہ اس کو اور زیادہ مستحکم بنا دیا ہے ۔ (سیرۃ ابن ہشام ، ۱/ ۱۴۴) اس سے اسلام کی پالیسی کا ایک نہایت اہم اصول معلوم ہوتا ہے ۔ اسلام سے پہلے مکہ کے لوگ مشرک تھے۔ ان کا یہ فیصلہ دورِ شرک کا کیا ہوا فیصلہ تھا جو اسلام کے مسلمہ دشمن رہ چکے ہیں۔ ان سب کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلہ کو نہیں بدلا۔ بلکہ اس کے مزید استحکام کا اعلان فرمادیا۔ مخالف پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد اس کے تمام پچھلے فیصلوں کو بدلنا انتہائی غیر حکیمانہ ہے۔ بلکہ یہ سرکشی کا فعل ہے ۔ اس طرح کی تبدیلیاں صرف مسائل کو بڑھاتی ہیں ۔ سماج میں بدعنوانیوں کے ابھرنے کا موقع ملتا ہے ۔ حتی کہ اس کے نتیجہ میں اصلاح کے نام پر فساد ظہور میں آتا ہے ۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ غلبہ کے باوجود ماضی کے ڈھانچہ کو باقی رکھا جائے ، اور جن چیزوں کو بدلنا ضروری ہو ان کو بھی یک لخت نہ بدلا جائے ۔ بلکہ تدریجی رفتار سے فطری انداز میں ان کے اندر تبدیلی لائی جائے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد بیشتر امور کو علیٰ حالہ برقرار رکھا۔ یہاں تک کہ دھیرے- دھیرے فطری عمل کے تحت اپنے آپ تمام چیزیں اسلامی رنگ میں رنگ گئیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader