اللہ اکبر
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
ہدایت ہر آدمی کی فطرت کی آواز ہے مگر ہدایت اسی کو ملتی ہے جو اپنے اندر اس کی طلب رکھتا ہو۔ جو اپنے اندر سچائی کی کھٹک لیے ہوئے ہو، سچائی جس کی ضرورت بن گئی ہو۔ جو سچائی کو پانے کے لیے اتنا بے قرار ہو کہ وہ اسی کی یاد لے کر سوتا ہو اور اسی کی یاد لے کر جاگتا ہو، جو آدمی اس طرح سچائی کا طالب بن جائے وہی سچائی کو پاتا ہے۔ ایسا شخص گویا ہدایت کا نصف راستہ طے کر چکا ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے عہد الست کی خدائی آوازوں کو سن رہا ہے۔ وہ اپنے اندر اس فطری صلاحیت کو بیدار کر چکا ہے جو معانی کی زبان کو سمجھتی ہے۔ ایسا شخص غیر حقیقی دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے حقیقی دنیا کے اتنا قریب آجاتا ہے کہ وہ فرشتوں کی سرگوشیوں کو سننے لگتا ہے۔ پیغمبر اس تلاش حق کی راہ میں آدمی کا مددگار ہے۔ پیغمبر کے ذریعہ حقیقت کا علم ملنے سے پہلے یہ تمام تجربات آدمی کے اندر مبہم اور مجہول انداز میں ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جب پیغمبر کی آواز اس کے اندر داخل ہوتی ہے تو وہ اس کی کتاب فطرت کی تفسیر بن جاتی ہے۔ وہ اپنے اندر چھپے ہوئے غیر ملفوظ اشارات کو ملفوظ زبان میں پالینتا ہے۔ قرآن اور قرآن کو پڑھنے والا دونوں ایک دوسرے کا مثنیٰ بن جاتے ہیں۔ قرآن وہ بن جاتا ہے اور وہ قرآن۔ گروہی اعتراف یہود تو رات کو خدا کی کتاب مانتے تھے۔ اسی طرح عیسائی انجیل کو خدا کی کتاب مانتے تھے۔ مگر جب قرآن ان کے سامنے آیا تو اس کو انھوں نے خدا کی کتاب ماننے سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا ماننا گروہی ماننا تھا نہ کہ حقیقی ماننا۔ وہ حق کو صرف اپنے گروہ کی بنیاد پر پہچانتے تھے نہ کہ اس کے جوہر کی بنیاد پر چنانچہ انھوں نے اپنے گروہ ہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader