Urdu book · اللہ اکبر

گروہی اعتراف

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

حق کو مانا اور گروہ سے باہر جو حق تھا اس کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ یہی بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقاً لِمَا مَعَهُمْ (2:91)۔ یعنی، اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو (قرآن) بھیجا ہے اس کو مانو تو کہتے ہیں کہ ہم اس کو مانتے ہیں جو ہمارے اوپر اترا ہے۔ اور وہ اس کا انکار کرتے ہیں جو اس کے سوا ہے حالانکہ وہ حق ہے اور اس کی تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے۔ یہ نفسیات جس کے تحت یہود و نصاریٰ نے قرآن کا انکار کیا تھا۔ وہ آج پوری طرح مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔ آج مسلمانوں کا بھی یہ حال ہو رہا ہے کہ وہ صرف گروہ ہی صداقت کو جانتے ہیں۔ وہ چیزوں کو اپنے گروہ کی نسبت سے پہچانتے ہیں۔ ان کے گروہ سے باہر اگر کوئی خوبی پائی جاتی ہو تو اس کی انہیں کوئی خبر نہ ہوگی۔ مسلمان آج بے شمار گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ہر گروہ کا یہ حال ہے کہ وہ صرف اس عالم کو عالم جانتا ہے جو اس کے گروہ کا ہو۔ باہر کے عالم کی اسے خبر نہیں۔ ہر گروہ اپنے گروہ کے متقی کو متقی سمجھتا ہے۔ باہر کے متقیوں کی اس کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ وہی مصنف مصنف ہے جو اپنے حلقہ کا ہو۔ اپنے حلقہ سے باہر کی کسی چیز کو وہ اس طرح نظر انداز کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو دکھائی ہی نہیں دیتی۔ خدا کے یہاں اس انسان کی قیمت ہے جس نے حق کو جوہر کی بنیاد پر پہچانا ہو۔ جو شخص گروہ کی بنیاد پر حق کو پہچاننے کی مہارت دکھائے۔ اس کی قیمت صرف اس کے اپنے گروہ میں ہے، خدا کے یہاں اس کی کوئی قیمت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page