کھونے والا پا تا ہے
Urdu book, p. 112
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں لینے کے لیے دینا پڑتا ہے ۔ یہاں کھونے میں پانے کا راز چھپا ہوا ہے ۔ آپ اگر ایک نفع بخش تجارت کے مالک بننا چاہتے ہیں تو پہلے اپنا اثاثہ اس میں کھپانا پڑے گا۔ اگر آپ اپنے کھیت میں ہری بھری فصل دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے بیج کے ذخیرے کو مٹی میں ملا دینا ہوگا ۔ اگر آپ منصوبہ بندی کے تحت دور رس عمل کرنا چاہتے ہیں تو اپنے فوری جذبات کو کچل دینے پر اپنے آپ کو راضی کرنا پڑے گا ۔ اگر آپ دولت مند بننا چاہتے ہیں تو ضروری ہوگا کہ آپ اپنے کو فضول خرچی سے باز رکھیں ۔ جو ذرہ نہ پھٹے وہ کبھی ایٹمی طاقت نہیں بنتا۔ جو دانہ اپنے آپ کو فنا نہ کرے وہ درخت کی صورت اختیار نہیں کرتا ۔ جو فرد اپنے ذاتی مفاد کو قربان نہ کرے وہ اجتماعی مفاد کو قائم کرنے کا کریڈٹ نہیں پاتا ۔ یہی معاملہ خدا کا بھی ہے ۔ کوئی شخص خد اوالا اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ خدا کی خاطر اپنے کو حذف کردے ۔ جو شخص اپنے وجو د کو حذف کرنے کے لیے تیار نہ ہو وہ کبھی خدا والا بھی نہیں بنتا۔ خدا کو پانے کے لیے اپنے آپ کو کھونا پڑتا ہے ۔ اسی ایک لفظ میں خدا کو پانے کا راز ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو بھی پانا چاہے اور خدا کو بھی ، وہ صرف اپنے آپ کو پائے گا ۔ ایسا آدمی کبھی خدا کو پانے والا نہیں بن سکتا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader