اللہ اکبر
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے- آدمی کو اس کے گردوپیش کی چیزیں بار بار اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ اس کے اندر اللہ کی یاد کو جگاتی رہتی ہیں۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنی حالت پر غور کرتا ہے تو اس کو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے۔ وہ بے تابانہ اپنے رب سے معافی مانگنے لگتا ہے۔ وہ خدا سے کہتا ہے کہ وہ اس کو آخرت کے عذاب سے بچائے اور اس دن اپنی رحمتوں کے سایہ میں داخل کرے جب کہ خدا کی رحمت کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہ ہوگا جہاں آدمی پناہ لے سکے۔ کبھی آدمی اپنے عجز اور بے چارگی کو دریافت کرتا ہے اور بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ خدایا تو قادر مطلق ہے تو اپنی قدرت سے میرے عجز کی تلافی فرما۔ انسان کے دل میں انہیں ربانی احساسات کا پیدا ہونا اور ان احساسات کا الفاظ کی صورت میں ڈھل جانا، اسی کا نام ذکر ہے۔ ذکر اللہ کی یاد ہے، سب سے بڑی حقیقت کی یاد۔ جو چیز سب سے بڑی حقیقت کی یاد ہو اس کا تجربہ بھی سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس تجربہ کا کسی کے دل پر گزرنا اتنا بڑا واقعہ ہے جس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ کھونے والا پاتا ہے اگر آپ بمبئی میں ہیں اور کلکتہ جانا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو بمبئی کو چھوڑنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی آپ کلکتہ میں موجود ہو سکتے ہیں۔ جو آدمی خدا کا طالب ہو وہ بھی گویا ایک قسم کا مسافر ہے۔ اگر وہ اپنی منزل پر پہنچنا چاہتا ہے تو اس کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔ یہ کہ وہ اپنی سابقہ جگہ کو چھوڑنے پر راضی ہو جائے۔ اس کے بعد ہی وہ اپنی مطلوب خدائی منزل پر پہنچنے کی خوشی حاصل کر سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader