Urdu book · اللہ اکبر

فیصلہ کے دن

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

فیصلہ کے دن انڈین ایکسپریس بنگلور کی اشاعت مورخہ 9 ستمبر 1983 کی ایک خبر کا عنوان ہے ۔ چمک دار چیز سونا نہیں: Glitter is not gold خبر میں بتایا گیا ہے کہ مس سبل ڈی سلوا (Miss Sybil D'Silva) جو بنگلور میں آرٹیلری روڈ (Artillery Road) پر رہتی ہیں وہ اپنے گھر پر تھیں کہ تقریباً 45 سالہ ایک عورت ان کے پاس آئی اس کی گود میں چھ مہینہ کا ایک بچہ تھا عورت نے مس ڈی سلوا سے کہا کہ اس کا شوہر بہت زیادہ بیمار ہے اور اس کے علاج کے لیے فوری طور پر 5 ہزار روپیہ کی ضرورت ہے عورت نے سونے کا ایک ہار اپنی جیب سے نکالا اور کہا کہ میں آپ سے بھیک نہیں مانگ رہی ہوں میں صرف اس سونے کے ہار کو بیچنا چاہتی ہوں اگر چہ یہ ہار مجھے بہت عزیز ہے مگر شوہر کی صحت اس سے زیادہ عزیز ہے اس ہار کی قیمت بازار میں دس ہزار روپے سے کم نہیں ہے میں اپنی ضرورت کی بنا پر آپ کو صرف 5 ہزار روپے میں دے دوں گی۔ مس ڈی سلوا نے ہار لینے سے انکار کیا لیکن عورت اپنی مجبوری بیان کرتی رہی یہاں تک کہ اس نے مس ڈی سلوا کو متاثر کر لیا۔ انھوں نے روپیہ دے کر ہار خرید لیا۔ اگلے دن مس ڈی سلوا بنگلور کی کمرشل اسٹریٹ پر گئیں اور وہاں ایک سنار کو انھوں نے وہ ہار دکھایا۔ سنار نے وہ ہار لے کر اپنی کسوٹی پر جانچا۔ کسوٹی پر جانچنے کے بعد ہار کی حقیقت کھل گئی۔ مس ڈی سلوا نے بنگلور پولیس کو یہ کہانی سناتے ہوئے کہا کہ سنار نے مجھے بتایا کہ یہ تو پیتل ہے: He told me it was brass یہی آخرت کا معاملہ بھی ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی اپنے کیے پر مگن ہے ہر آدمی اپنے کام کو سونا سمجھتا ہے۔ مگر کوئی سونا اسی وقت سونا ہے جب کہ وہ سنار کی کسوٹی پر بھی سونا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page