اللہ اکبر
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
ثابت ہو ۔ آخرت میں خدا ہر آدمی کے عمل کو اپنی کسوٹی پر جانچے گا۔ جس کا عمل وہاں کی جانچ میں سونا ثابت ہواسی کے عمل کی قیمت ہے اور جس کے عمل کے بارے میں یہ کہہ دیا جائے کہ یہ تو پیتل تھا ، اس کا سونا اس کے لیے صرف رسوائی اور بربادی کی علامت ہوگا۔ جس چیز کو آدمی آج اتنا قیمتی سمجھے ہوئے ہے کہ وہ اس کو کسی طرح چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ، اس دن وہ اس سے اتنا بیزار ہوگا کہ وہ چاہے گا کہ کوئی ایسی صورت ہو کہ اس کے اور اس کے عمل کے درمیان جدائی ہو جائے مگر اس دن جدائی نہ ہو سکے گی۔ جس چیز کو وہ فخر کی چیز سمجھے ہوئے تھا اس دن وہ اس کے لیے صرف ذلت اور رسوائی کی چیز بن جائے گی۔ اس دن کیا ہو گا خدا ہر چیز کا مالک ہے دنیا میں کسی کو جو کچھ ملتا ہے خدا کے دئے سے ملتا ہے خدا کے سوا کسی کے پاس کوئی چیز ہی نہیں جو وہ کسی کو دے سکے ایسی حالت میں اگر کچھ لوگ ایسا کریں کہ ایک شخص کو جائز طور پر ملی ہوئی چیز کو اس سے چھینے لگیں تو گویا وہ خدا کے دئے کو چھین رہے ہیں وہ خدا کے منصوبہ کو باطل کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا میں ایک شخص کو مکان ملے مگر کچھ لوگ اس کو بے گھر کرنے کی سازشیں کریں اس کی معاش کا جائز انتظام ہو مگر لوگ اس کی معاشیات کو تباہ کرنے پر اتر آئیں اس کو عزت کی زندگی حاصل ہو مگر لوگ اس کو بے عزت کرنے کی کارروائیاں کریں وہ سکون و عافیت کے ساتھ اپنے ماحول میں رہ رہا ہو مگر لوگ اس کو جھوٹے مقدمات میں الجھا کر اس کے سکون کو غارت کرنے لگیں۔ ایسا ہر واقعہ خدا کے نظام میں مداخلت ہے یہ بے اختیار مخلوق کا ایسے خالق سے لڑنا ہے جو تنہا اور مکمل طور پر ہر قسم کا اختیار رکھتا ہے۔ ایسے واقعات کا مطلب یہ ہے کہ ــ خدا نے چاہا مگر بندوں نے نہ چاہا۔ خدا نے اپنے فیصلے کے تحت تقسیم رزق کا ایک انتظام کیا مگر بندے اس تقسیم کو ماننے پر راضی نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader