Urdu book · اللہ اکبر

گھاٹے والا

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم قیامت کے دن ان کے اعمال کا کچھ وزن قائم نہ کریں گے (18:103-105)۔ تمام محرومیوں میں سب سے زیادہ عجیب محرومی وہ ہے جب کہ آدمی کمائی کرے مگر اس کو اس کا حاصل نہ ملے وہ مہینہ بھر محنت کرے مگر وہ کوئی تنخواہ نہ پائے وہ تجارت میں اپنی ساری پونجی لگائے مگر اسے کچھ نفع حاصل نہ ہو وہ ارমানوں کے ساتھ اپنا گھر بنائے مگر اس میں اس کو چین کے ساتھ رہنا نصیب نہ ہو۔ اگر کسی آدمی کے ساتھ ایسا حادثہ گزرے تو وہ بالکل بجھ کر رہ جاتا ہے۔ اس کے اعضاء شل ہو جاتے ہیں۔ اپنی محنت کے آخری نتیجے کو اپنی آنکھوں کے سامنے برباد ہوتے دیکھنا اتنا بڑا حادثہ ہے جس کو کوئی بھی شخص برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ دنیا میں اعمال کی بربادی کا حال ہے۔ پھر آخرت میں جب آدمی اپنے اعمال کو ابدی طور پر برباد ہوتے ہوئے دیکھے گا تو اس کا کیا حال ہوگا۔ جب وہ دیکھے گا کہ عمر بھر کی محنت سے بنایا ہوا اس کا ڈھانچہ اچانک ڈھ پڑا۔ اس کی خوش گمانیوں کا قلعہ ایک ہی جھٹکے میں ہمیشہ کے لیے مسمار ہو گیا۔ جب وہ دیکھے گا کہ دنیا میں محنت کے ساتھ حاصل کی ہوئی کمائی آخرت میں اپنا کوئی وجود نہیں رکھتی۔ دنیا میں کھڑا کیا جانے والا عظمتوں کا گنبد آخرت میں گرا ہوا پڑا ہے۔ دنیا میں جمع کی ہوئی نیک نامی آخرت میں بالکل بے قیمت ہو چکی ہے۔ جس آدمی نے اپنی دوڑ دھوپ کو صرف دنیا میں لگایا ہو اس کا آخرت میں یہی حال ہو گا کہ وہ ہاں وہ بالکل مفلس بن کر کھڑا ہوگا۔ وہاں اس کی حیثیت صرف ایک لٹے پٹے انسان کی ہوگی یہ منظر آدمی کیلیے نا قابل برداشت حد تک سخت ہوگا۔ کامیابیوں پر فخر کرنے والے ناکامی کے گڑھے میں گرے ہوئے ہوں گے۔ ترقیات پر ناز کرنے والے ایسے بد حال دکھائی دیں گے جیسے انھوں نے کبھی ترقی کا نام بھی نہیں سنا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page