اللہ اکبر
Urdu book, p. 117
By Maulana Wahiduddin Khan
پریس کانفرنس کی گئی۔ اس نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ خبر کو سن کر میں ششدر رہ گیا۔ میں بار بار اپنے نمبر کو اعلان شدہ نمبر سے ملا کر چیک کرتا رہا اور ابھی تک مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ انعام مجھ کو ملا ہے خبر سن کر وہ بھاگ کر اندر کمرے میں گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ ” میرا خیال ہے کہ ہم لوگ کروڑ پتی ہو گئے ہیں۔ اس نے اخبار نویسوں سے کہا کہ مجھ کو جو ضرورت تھی وہ میں نے پالیا میں نے اپنا مکان پالیا میں نے اپنے ٹماٹر پالے: I got whatever I need. I got my house. I got my tomatoes. دنیا میں آدمی کے پاس دولت ہو تو اس کا ہر کام پورا ہو جاتا ہے۔ اس لیے آدمی سمجھتا ہے کہ دولت سب کچھ ہے دولت مل جائے تو آدمی سمجھتا ہے کہ اس نے سب کچھ پالیا۔ حالاں کہ سب کچھ پانا یہ ہے کہ آدمی آخرت میں خدا کی رحمتوں کو پالے۔ موت سے پہلے کی زندگی میں آدمی جن مسائل سے دو چار ہے ان سے بالکل مختلف وہ مسائل ہوں گے جن سے آدمی موت کے بعد کی زندگی میں دو چار ہوگا۔ آج دولت کی اہمیت ہے، اس وقت ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہوگی۔ آج چیزیں بازار سے حاصل ہوتی ہیں اس وقت تمام چیزیں خدا کی رحمت کے خزانے سے ملیں گی۔ آج مادی قوانین کے تحت آدمی کو مقام ملتا ہے اس وقت اخلاقی قوانین یہ فیصلہ کریں گے کہ آدمی کو کیا ملے اور کیا نہ ملے۔ گھاٹے والا قرآن میں ارشاد ہوا ہے ۔ کہو، کیا میں بتاؤں کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں وہ لوگ جن کی کوششیں دنیا کی زندگی میں کھوٹی گئیں اور وہ اسی خیال میں رہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا۔ پس ان کے اعمال ضائع ہو گئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader