اللہ اکبر
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
کے طویل سفر پر روانہ ہونے سے پہلے وہ دہلی کے سب سے زیادہ پریشان آدمی تھے۔ He was the most worried man in town before he took the long road آج آدمی وقار کے کھونے کو بھی برداشت نہیں کر پاتا۔ پھر آنے والی دنیا میں آدمی کا کیا حال ہوگا جب اس کو بھوک اور پیاس لگے گی مگر وہاں کھانا نہ ہوگا جس کو کھائے اور پانی نہ ہوگا جس سے وہ اپنی پیاس بجھائے۔ وہ تیز دھوپ میں جل رہا ہوگا مگر اس کے لیے کوئی سایہ نہ ہوگا جس کے نیچے وہ پناہ لے۔ عذاب اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہوگا مگر وہاں کوئی مددگار نہ ہوگا جو اس کی مدد کو پہنچے آہ وہ انسان جو کنکری کی چوٹ کو برداشت نہیں کر پاتا حالانکہ اس کے اوپر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ کر گرنے والا ہے۔ موت کا حملہ سکندر اعظم (323-356 ق م) یونانی بادشاہ فلپ کالر کا تھا۔ اس نے تخت ملنے کے بعد دس سال کی مدت میں اس زمانہ کی معلوم دنیا کا بیشتر حصہ فتح کر ڈالا۔ مصر کا شہر اسکندر یہ اس کے فتح مصر کی یادگار کے طور پر اب بھی موجود ہے۔ مگر بالآخر اس کا انجام کیا ہوا۔ وہ عراق کے قدیم شہر بابل کے ایک محل میں اس طرح بے بسی کے ساتھ مر گیا جس طرح ایک غریب اور کمزور آدمی اپنی جھونپڑی میں مرتا ہے۔ اس نے اپنی زندگی میں جو چاہا وہ پایا اور پھر سب کچھ پا کر خالی ہاتھ اس دنیا سے چلا گیا۔ اس کی وسیع سلطنت اس کے مرنے کے بعد اس کے تین فوجی سرداروں میں تقسیم ہوگئی۔ کیونکہ اس کا واحد بیٹا اس کی زندگی ہی میں قتل کیا جا چکا تھا۔ سکندر کی عظمت کا یہ حال تھا کہ جولیس سیزر ایک بار اسپین میں سکندر کے مجسمہ کے سامنے سے گزرا تو اس کو دیکھ کر وہ بے اختیار رونے لگا۔ اس نے کہا سکندر نے جو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader