اللہ اکبر
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
فاتحانہ کارنامے دس برس کی مدت میں انجام دیے، اس کا دسواں حصہ بھی میں اب تک انجام نہ دے سکا۔ سکندر مخالفت کو بالکل برداشت نہیں کرتا تھا۔ اس کا نظریہ تھا کہ مخالفت شروع ہوتے ہی اس کو فوراً کچل دینا چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ سکندر کی غیر معمولی فتوحات کا باعث اس کی برق رفتاری تھی۔ اچانک پہنچ کر دشمن کو دبوچ لینے کی صلاحیت اس کے اندر دنیا کے تمام جنرلوں سے زیادہ تھی، مگر موت اس سے بھی زیادہ تیز رفتار ثابت ہوئی ۔ 13 جون 323 ق م کو جب موت اس کے اوپر حملہ آور ہوئی تو اس کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو بالکل بے بسی کے ساتھ موت کے حوالے کر دے۔ موت اس لیے آتی ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ وہ خدا کے آگے کس قدر بے بس ہے۔ آدمی ہر روز اپنے چاروں طرف موت کے واقعات کو دیکھتا ہے مگر وہ اس سے کوئی سبق نہیں لیتا۔ وہ زندگی کی اس سب سے بڑی حقیقت کو بھولارہتا ہے، یہاں تک کہ موت آکر اس سے خود مہلت کو چھین لیتی ہے کہ وہ سوچے اور اس سے سبق لے۔ موت آدمی کے لیے سب سے بڑا سبق ہے۔ مگر موت سے آدمی سب سے کم جو چیز لے رہا ہے وہ یہی ہے۔ پانچ سیکنڈ کا فاصلہ 3 جون 1979 کو راقم الحروف میرٹھ میں تھا۔ شام کا وقت تھا۔ میں اور مولانا شکیل احمد قاسمی صدر بازار کی سڑک پر ایک ساتھ جارہے تھے۔ اس کے بعد اچانک ایک واقعہ ہوا۔ ہمارے سامنے ایک مکان کے آگے کا حصہ دھما کہ کے ساتھ گر پڑا۔ اینٹ اور پتھر سڑک پر ڈھیر ہو گئے۔ اس وقت ہم دونوں جائے حادثہ سے بمشکل پانچ سیکنڈ کی مسافت پر تھے۔ اگر ہم پانچ سیکنڈ آگے ہوتے یا مکان پانچ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader