Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں آدمی پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ آہ و پکار کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ آنے والے دن کو جانے تو وہ کہے گا کہ خدایا جو کچھ بیت رہا ہے اس سے کہیں زیادہ سخت ہے وہ جو بیتنے والا ہے۔ دنیا میں آدمی کو عزت اور آرام حاصل ہو تو وہ فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ آنے والے لمحات کو جانے تو وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا اس عزت اور آرام کی کوئی حیثیت نہیں اگر آنے والے طویل تر مرحلہ میں وہ باقی نہ رہے۔ موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ ایک نئے مرحلہ حیات کا آغاز ہے۔ یہ نیا مرحلہ کسی کے لیے تمام مصیبتوں سے زیادہ بڑی مصیبت کا آغاز ہوگا اور کسی کے لیے تمام راحتوں سے زیادہ بڑی راحت کا دروازہ۔ موت کے دروازے پر موت کا مرحلہ سب سے زیادہ یقینی مرحلہ ہے جس سے آدمی کو لازماً گزرنا ہے۔ یہ تو ممکن ہے کہ کسی کو زندگی نہ ملے مگر جس کو زندگی ملی اس کے لیے موت کا آنا لازمی ہے۔ ہر آدمی جو زندہ ہے وہ ایک روز مرے گا۔ ہر آدمی جو دیکھتا اور بولتا ہے، یقیناً ایک روز اس کی آنکھ بے نور ہوگی اور اس کا بولنا بند ہو جائے گا۔ ہر آدمی پر وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ موت کے دروازہ پر کھڑا کر دیا جائے۔ اس وقت اس کے پیچھے دنیا ہوگی اور اس کے آگے آخرت وہ ایک ایسی دنیا کو چھوڑ رہا ہوگا جہاں وہ دوبارہ کبھی نہیں آئے گا اور ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہا ہوگا جس سے اس کو کبھی نکلنا نصیب نہ ہوگا وہ اپنے عمل کے میدان سے ہٹا کر وہاں ڈال دیا جائے گا جہاں وہ اپنے عمل کا ابدی انجام بھگتتار ہے ۔ زندگی ایک بے اعتبار چیز ہے جب کہ موت بالکل یقینی ہے۔ ہم زندہ صرف اس لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page