Urdu book · اللہ اکبر

موت کا مرحلہ

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

موت کا مرحلہ موت کا لمحہ تمام قابل قیاس اور ناقابلِ قیاس لمحات سے زیادہ شدید ہے۔ ہر دوسری مصیبت جس کے لیے آدمی پریشان ہوتا ہے اس مصیبت کے مقابلہ میں ہیچ ہے جو موت کی صورت میں اس کے سامنے آنے والی ہے۔ موت زندگی کے سخت ترین مرحلہ کی طرف سفر ہے یہ کامل بے اختیاری کامل بے سروسامانی اور کامل بے مددگاری کے مرحلہ میں داخل ہونا ہے دنیا کی ہر تکلیف کی ایک حد ہوتی ہے موت ہم کو ایک ایسی دنیا میں داخل کر دیتی ہے جس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کی کوئی حد نہیں۔ موجودہ دنیا میں بھی آدمی باعتبارِ حقیقت اسی حال میں ہے۔ انسان اپنی ذات کے اعتبار سے اتنا کمزور ہے کہ وہ معمولی نا خوشگواری کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک سوئی کا چھبنا، ایک دن کی بھوک پیاس، چند دن کے لیے نیند نہ آنا بھی اس کے پورے وجود کو توڑ پا دیتا ہے۔ تاہم موجودہ دنیا میں اس کو اس کی ضرورت کے مطابق تمام چیزیں حاصل ہیں، اس لیے وہ اپنی بے چارگی کو بھولارہتا ہے وہ اپنی حقیقت سے نا آشنا رہتا ہے۔ اگر آدمی سے موجودہ دنیا چھین لی جائے جہاں پانی اور غذا ہے، جہاں ہوا اور روشنی ہے، جہاں فطرت کی قوتوں کو مسخر کر کے تمدن بنانے کے امکانات ہیں۔ اگر موجودہ دنیا آدمی سے چھین لی جائے تو خلا کے کسی دوسرے مقام پر وہ اپنے لیے اس قسم کی ایک اور دنیا کی تخلیق نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد اس کا انجام اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ وہ اندھیرے میں بھٹکتا رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page