Urdu book · اللہ اکبر

سب سے بڑا بھونچال

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے بڑا بھونچال آج لوگوں کے پاس الفاظ ہیں جن کو وہ بے تکان دہرارہے ہیں مگر ایک وقت آنے والا ہے جب کہ ان کے الفاظ چھن چکے ہوں گے۔ ان کو اپنا ہر بول بالکل بے قیمت نظر آئے گا۔ وہاں کوئی سننے والا نہ ہوگا۔ جو ان کے الفاظ کو سنے۔ کوئی پریس نہ ہوگا جو ان کے الفاظ کو چھاپے۔ کوئی لاؤڈ اسپیکر نہ ہوگا جو ان کے الفاظ کو فضا میں بکھیرے ۔ ان کی خوش خیالیوں کا محل گر چکا ہوگا۔ وہ حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے اپنے چاروں طرف دیکھیں گے اور کچھ نہ کر سکیں گے۔ اس وقت ان کو نظر آجاۓ گا کہ دنیا میں حق کا انکار کرنے کے لیے وہ جن الفاظ کا سہارا لیے ہوئے تھے وہ کس قدر بے قیمت تھے یہ دنیا چونکہ امتحان کی دنیا ہے اس لیے یہاں الفاظ ہر معنی کو قبول کر لیتے ہیں۔ ایک ناحق بات کو بھی یہاں شان دار الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے مگر موت کے بعد جو دنیا آئے گی وہاں صرف سچی بات بولنا ممکن ہوگا وہاں الفاظ کسی غلط بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیں گے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ ۔ موت کو بہت زیادہ یاد کرو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے: أَکْثِرُوا ذِکْرَ ھَادِمِ اللَّذَّاتِ : يَعْنِي الْمَوْتَ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4258) ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی اگر موت کو یاد کرتا رہے تو اس کے لیے دنیا کی وہ تمام چیزیں بالکل بے حقیقت ہو جائیں جن کی خاطر وہ ظلم اور بے انصافی کرتا ہے اور اپنے لیے جہنم کی آگ میں جلنے کا خطرہ مول لیتا ہے جس مال کو آدمی اپنا سب کچھ سمجھتا ہے اور اس کے سمیٹنے میں اپنی ساری طاقت لگا دیتا ہے وہ اس کو برت نہیں پاتا کہ موت آجاتی ہے اور اس کو اس کمائے ہوئے مال سے جدا کر دیتی ہے اگر آدمی کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو تو وہ مال کے پیچھے اپنے کو دیوانہ نہ بنائے آدمی کو کسی سے شکایت ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page