اللہ اکبر
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتی ہے اور وہ اس کو مٹانے اور اس کو برباد کرنے میں لگ جاتا ہے مگر ابھی وہ اپنے تخریبی منصوبہ کو پورا نہیں کر پاتا کہ موت اس کے اور اس کے دشمن کے درمیان حائل ہو جاتی ہے وہ اپنے دشمن کو اس کے حال میں چھوڑ کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ اگر یہ حقیقت آدمی کے ذہن میں تازہ ہو تو وہ کبھی کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرے ۔ آدمی کے سامنے ایک سچائی آتی ہے، مگر وہ اس کا اعتراف نہیں کرتا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے اس کا اعتراف کر لیا تو وہ بڑائی کے مقام سے نیچے آجاۓ گا۔ اس کا بنا بنایا ڈھانچہ ٹوٹ کر منتشر ہو جائے گا، مگر سچائی کے انکار کے بعد اس پر چند دن بھی نہیں گزرتے کہ موت اس کی بڑائی کو ختم کر دیتی ہے اور اس کا سارا نقشہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اگر وہ موت سے پہلے اس ہونے والے واقعہ کو یاد کر لے تو کبھی ایسی سچائی کے انکار کی جرأت نہ کرے جس کو چند لمحہ بعد اس کو بہر حال تسلیم کرنا ہے۔ ایک ایسا گھر جو کل جل کر تباہ ہو جانے والا ہو اس کو کوئی نہیں خریدتا ایک ایسا شہر جو اگلے لمحہ بھونچال کی زد میں آنے والا ہو اس میں کوئی داخل نہیں ہوتا مگر کیسی عجیب بات ہے کہ موت کے عظیم تر بھونچال کے معاملہ میں ہر آدمی یہی غلطی کر رہا ہے موت ہر چیز کو باطل کر دے گی وہ وقت کیسا عجیب ہوگا جب لوگوں کو معلوم ہوگا کہ عمل کے نام پر دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے وہ بے عملی کی بدترین شکل تھی لوگ دنیا میں اپنے آپ کو اوپر اٹھا کر فخر کرتے رہے حالاں کہ ان کے لیے قابل فخر بات یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے آگے جھکا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader