باطل کر دے گی
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
دیں۔ وہ اپنی غلطیوں کی توجیہ و تاویل سمجھتے رہے حالاں کہ ان کی کامیابی یہ تھی کہ وہ اپنی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کر لیں۔ ان کو الفاظ اس لیے دیئے گئے تھے کہ ان کو اللہ کی تعریف میں استعمال کریں مگر وہ اپنے الفاظ کے ذخیرہ کو انسان کی تعریف میں خرچ کرتے رہے۔ ان کے اندر خوف و محبت کے نازک جذبات اس لیے رکھے گئے تھے کہ وہ ان کو خدا کے لیے وقف کر دیں مگر وہ دوسری چیزوں کو اپنے خوف و محبت کے جذبات کا مرکز بناتے رہے۔ انھوں نے مال جمع کرنے کو سب سے بڑی چیز سمجھا حالاں کہ ان کے لیے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دے کر بے مال ہو جائیں۔ ان کا اصلی کمال یہ تھا کہ وہ کمزوروں کا لحاظ کریں مگر وہ کمزوروں کو نظر انداز کر کے طاقت وروں کا استقبال کرتے رہے۔ ان کے لیے زیادہ بہتر یہ تھا کہ معافی کے خاموش سمندر میں غوطہ لگائیں مگر وہ شور و غل کے ہنگامے کھڑے کرنے میں مشغول رہے ان کی ترقی کا راز یہ تھا کہ وہ اپنی ذات کا احتساب کرنے والے بنیں مگر وہ دوسروں کا احتساب کرنے میں مصروف رہے۔ ان سے یہ مطلوب تھا کہ دنیا کا مال یا دنیا کی عزت پائیں تو اس کو بے حقیقت سمجھیں اور اس سے بے رغبتی کا ثبوت دیں مگر اسی کو وہ سب سے بڑی چیز سمجھ بیٹھے۔ آج کی دنیا میں لوگ دوسروں کے ظلم کا اعلان کرنے کے بہادر بنے ہوئے ہیں، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ اصل بہادری یہ تھی کہ وہ خود اپنے ظلم کو جاننے کے بہادر بنیں۔ لوگ کسی نہ کسی غیر خدا کا دامن تھام کر سمجھ رہے ہیں کہ انھوں نے اپنے لیے مضبوط پناہ حاصل کر لی ، اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ خدا کے سوا کوئی نہ تھا جو کسی کے لیے پناہ بن سکے۔ لوگ الفاظ بول کر اپنے کو بری الذمہ سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ان کو معلوم ہوگا کہ یہ صرف حقائق تھے جو کسی کو بری الذمہ کر سکتے تھے لوگ دنیا کے اسباب کو اکٹھا کر کے مطمئن ہیں کہ جو کچھ ان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader