کل کو یاد رکھیے
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
1904 میں ان کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی اس وقت ان کا قیام نالدرا میں تھا۔ اس مناسبت سے انھوں نے اپنی لڑکی کا نام الکینڈر نالدرا کرزن رکھا۔ لارڈ کرزن نے اس زمانہ میں اپنی بیوی کے نام جو خطوط لکھے ان میں سے ایک خط وہ ہے جو انھوں نے شملہ سے لندن بھیجا تھا۔ اس خط میں انھوں نے اپنی بیوی کو تسکین دلانے کی کوشش کی۔ ان کے خط کا ایک جملہ یہ تھا۔ لڑکا یا لڑکی کا کیا فائدہ جب کہ ہم دونوں اس دنیا سے جا چکے ہوں گے۔ After all what does sex matter after we are both of us gone . لارڈ کرزن کا یہ جملہ محض اپنی مایوس نفسیات کو چھپانے کی ایک کوشش تھی لیکن یہی بات اگر آدمی کے اندر شعوری طور پر پیدا ہو جائے تو دنیا کا آدھا مسئلہ حل ہو جائے دولت، اولاد، اقتدار یہی وہ چیزیں ہیں جن کو آدمی سب سے زیادہ چاہتا ہے اور ان کو حاصل کرنے کے لیے سب کچھ کر ڈلتا ہے۔ اگر آدمی یہ سوچ لے کہ کسی چیز کو پانے کا کیا فائدہ جب کہ چند ہی روز بعد اس کو چھوڑ کر چلا جانا ہے تو لوگوں کے اندر قناعت آجاۓ اور دنیا کا تمام ظلم و فساد ختم ہو جائے یہ ایک حقیقت ہے کہ یہاں پانے اور نہ پانے میں بہت زیادہ فرق نہیں جو پانا اگلے روز کھونا بننے والا ہو اس پانے کی کیا قیمت ہے۔ آدمی اپنی ساری کوشش خرچ کر کے جو چیز حاصل کرتا ہے وہ صرف اس لیے ہوتی ہے کہ اگلے لمحہ وہ اس کو کھو دے۔ ہر زندگی بالاخر موت سے دوچار ہونے والی ہے۔ ہر وہ محبوب چیز جس کو آدمی اپنے گردو پیش جمع کرتا ہے اس کو چھوڑ کر وہ اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے چلا جانے والا ہے۔ آدمی ” آج“ میں جیتا ہے وہ کل کو بالکل بھولارہتا ہے آدمی دوسرے کا گھر اجاڑ کر اپنا گھر بناتا ہے حالاں کہ اگلے دن وہ قبر میں جانے والا ہے۔ آدمی دوسرے کے اوپر جھوٹے مقدمے چلا کر اس کو انسانی عدالت میں لے جاتا ہے حالانکہ فرشتے خود اس کو خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader