اللہ اکبر
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
کی عدالت میں لے جانے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ آدمی دوسرے کو نظر انداز کرکے اپنی عظمت کے گنبد میں خوش ہوتا ہے حالاں کہ بہت جلد اس کا گنبد اس طرح ڈھ جانے والا ہے کہ اس کی ایک اینٹ بھی باقی نہ رہے۔ آہ یہ انسان تقریباً ایک درجن انڈے سامنے رکھے ہوئے تھے۔ بظاہر سب انڈے اوپر سے دیکھنے میں اچھے لگتے تھے۔ مگر جب توڑا گیا تو ایک کے بعد ایک سب خراب نکلتے چلے گئے۔ آخر میں یہ معلوم ہوا کہ ان میں کوئی ایک بھی اچھا نہ تھا۔ سارے انڈے اندر سے خراب انڈے تھے۔ اگرچہ بظاہر اوپر سے اچھے نظر آتے تھے۔ ایسا ہی کچھ حال آج کل انسانوں کا ہو رہا ہے۔ بظاہر دیکھنے میں ہر آدمی آدمی ہے۔ وہ عمدہ کپڑے پہنے ہوئے ہے۔ وہ خوبصورت باتیں کرتا ہے۔ اوپر سے ہر آدمی اچھا آدمی معلوم ہوتا ہے۔ ہر آدمی کے پاس اپنے کارناموں کی نہ ختم ہونے والی داستانیں ہیں۔ مگر جب تجربہ کیجئے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ اندر سے کچھ اور تھا۔ اوپر کے خوبصورت خول کے اندر ایک انتہائی بدہیئت اور بالکل مختلف قسم کا انسان چھپا ہوا تھا۔ جب کسی سے لین دین ہوتا ہے، جب کوئی شکایت اور تلخی کا کوئی موقع سامنے آتا ہے، جب کسی کے مفاد اور مصلحت پر ضرب پڑتی ہے تو اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ اندر کا اصلی انسان وہ نہ تھا جو اوپر سے دکھائی دے رہا تھا۔ خوبصورت کپڑوں کے اندر جو چیز چھپی ہوئی ہے وہ گندگی کے سوا اور کچھ نہیں۔ خود غرضی، سطحیّت، ظاہر داری، فخر، حسد، غرور، موقع پرستی ، تعصب، استحصال ، یہی وہ چیزیں ہیں جو لوگ اپنے خوبصورت جسموں کے اندر رچپائے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی بظاہر اچھا انڈہ ہے۔ مگر توڑنے کے بعد ہر آدمی خراب انڈہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader