کہاں سے کہاں تک
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
سبق دیا جاتا ہے کہ بالا آخر ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ زندہ لوگ مرنے والے کے روپ میں خود اپنے آپ کو دیکھیں وہ موت سے پہلے موت کا تجربہ کریں۔ یہ تجربہ اس طرح بھی ممکن تھا کہ ایک مقررہ دن کو کاغذی کا انسانی پتلا بنایا جائے اور اس کے ساتھ تمام رسوم ادا کر کے اس کومٹی کے گڑھے میں ڈال دیا جائے اسلام نے اس تجربہ کو حقیقی بنانے کے لیے حقیقی انسان کے مردہ جسم کو استعمال کیا۔ ایک انسان ہماری طرح ایک زندہ انسان تھا۔ چلتے چلتے اس کے قدم جواب دے گئے بولتے بولتے اس کی زبان بند ہو گئی۔ دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں بے نور ہو گئیں لوگوں کے نزدیک اس کی جو قیمت تھی وہ سب اچانک ختم ہو گئی۔ اب خدا اس واقعہ کو استعمال کرتا ہے تا کہ اپنے جیسے ایک انسان کے ذریعہ لوگوں کو زندگی کا سبق یاد دلا دے۔ لوگ اس کو اہتمام کے ساتھ تیار کرتے ہیں اور پھر لے کر چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ آخری مرحلہ میں پہنچ کر جب اس کو قبر کے گڑھے میں لٹا دیا جاتا ہے تو ہر آدمی یہ کرتا ہے کہ تین بار اپنے ہاتھ میں مٹی لے کر قبر میں ڈالتا ہے۔ پہلی بار مٹی ڈالتے ہوئے کہتا ہے : مِنْھَا خَلَقْنَا کُمْ (اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا) جب وہ دوسری بار مٹی ڈالتا ہے تو کہتا ہے : وَفِیْھَا نُعِیْدُ کُمْ (اسی میں ہم تم کو دوبارہ ڈالیں گے) اور پھر تیسری بار مٹی ڈالتے ہوئے وہ کہتا ہے : وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَةً اُخْرٰی (20:55) ، اور اسی سے ہم تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ یہ تین بار مٹی ڈالنا اس پورے قصہ کا کلائَمکس (climax) ہے۔ اس طرح ایک زندہ واقعہ کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ انسان کیا ہے اور اس کا آخری انجام کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader