قریب مگر دور
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
قریب مرگ دور ایر انڈیا کا ایک جہاز (Boeing 747) 23 جون 1985 کو مانٹریل سے اڑا۔ اس پر جہاز کے عملہ سمیت 329 آدمی سوار تھے وہ مانٹریل سے لندن ہوتا ہوا دہلی آنے والا تھا۔ دہلی کے پالم ایر پورٹ پر حسب معمول بہت سے لوگ اپنے آنے والے عزیزوں اور مہمانوں کا انتظار کر رہے تھے۔ آنے والے مسافروں میں کچھ وہ لوگ تھے جو کمائی کر کے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ کچھ وہ لڑکے اور لڑکیاں تھیں جو ہندوستان میں شادی کرنے کے لیے آرہی تھیں۔ کچھ لوگ اپنے متعلقین سے ملنے کے لیے اپنے وطن پہنچنے والے تھے۔ اچانک خوشیاں غم میں تبدیل ہو گئیں۔ معلوم ہوا کہ جہاز اٹلانٹک کے اوپر پرواز کر رہا تھا کہ آئر لینڈ کے قریب اس کو حادثہ پیش آ گیا اور وہ برباد ہو کر سمندر میں گر پڑا ہوائی اڈہ پر مرنے والے مسافروں کی فہرست آویزاں کر دی گئی۔ تمام لوگ جو ہوائی اڈہ پر انتظار کر رہے تھے وہ فہرست دیکھنے کے لیے متعلقہ بورڈ کی طرف دوڑے۔ اس موقع پر ایک انگریزی اخبار کے رپورٹر نے اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں: In thier moment of stunned disbelief, each one thought "this could not be happening to me " But, with merciless equality the death list shattered all their hopes. ہوش اڑا دینے والی بے یقینی کے اس لمحہ میں ہر ایک یہ سوچ رہا تھا کہ ایسا حادثہ میرے ساتھ پیش نہیں آسکتا، مگر بے رحم مساوات کے ساتھ موت کی فہرست نے ان کی تمام امیدوں کو بکھیر دیا (ہندوستان ٹائمز، 24 جون 1985)۔ فہرست نے بتایا کہ ہوائی جہاز کے 329 مسافر سب کے سب اچانک حادثہ کا شکار ہو کر ختم ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی نہیں جو اپنے انتظار کرنے والوں تک پہنچنے والا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader