Urdu book · اللہ اکبر

خدا کی موجودگی کا تجربہ

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

چڑیا غرض جو کچھ بھی ہماری دنیا میں سب کا سب حد درجہ عجیب ہے، ہر چیز اپنے خالق کا آئینہ ہے۔ مگر عادی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے عجبہ پن کو محسوس نہیں کر پاتے۔ مگر ایک شخص جب اچانک چاند کے اوپر اترا اور پہلی بار وہاں کے تخلیقی منظر کو دیکھا تو وہ اس کے خالق کو محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس نے تخلیق کے کارنامہ میں اس کے خالق کو موجود پایا۔ ہماری موجودہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں یہاں بھی ”خدا کی موجودگی کا تجربہ اسی طرح ہو سکتا ہے جس طرح چاند پر پہنچ کر کرنل ارون کو ہوا۔ مگر لوگ موجودہ دنیا کو اس استجابی نگاہ سے نہیں دیکھ پاتے جس طرح چاند کا ایک نیا مسافر چاند کو دیکھتا ہے۔ اگر ہم اپنی دنیا کو اس نظر سے دیکھنے لگیں تو ہر وقت ہم کو اپنے پاس ”خدا کی موجودگی “ کا تجربہ ہو۔ ہم اس طرح رہنے لگیں جیسے کہ ہم خدا کے پڑوس میں رہ رہے ہیں اور ہر وقت وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ اگر ہم ایک اعلیٰ درجہ کی مشین کو پہلی بار دیکھیں تو فی الفور ہم اس کے ماہر انجینئر کی موجودگی کو وہاں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم دنیا کو اور اس کی چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو اسی وقت ہم وہاں خدا کی موجودگی کو پالیں گے۔ خالق ہم کو اس طرح نظر آئے گا کہ ہم خالق اور تخلیق کو ایک دوسرے سے جدا نہ کر سکیں ۔ موجودہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ خدا کو دیکھنے لگے، وہ اپنے پاس خدا کی موجودگی کو محسوس کر لے۔ اگر آدمی کا احساس زندہ ہو تو سورج کی سنہری کرنوں میں اس کو خدا کا نور جگمگاتا ہوا دکھائی دے گا ہرے بھرے درختوں کے حسین منظر میں وہ خدا کا روپ جھلکتا ہوا پائے گا۔ ہواؤں کے لطیف جھونکے میں اس کو لمس ربانی کا تجربہ ہوگا۔ اپنی ہتھیلی اور اپنی پیشانی کو زمین پر رکھتے ہوئے اس کو ایسا محسوس ہوگا گویا اس نے اپنا وجود اپنے رب کے قدموں میں ڈال دیا ہے۔ خدا ہر جگہ موجود ہے بشرطیکہ دیکھنے والی نگاہ آدمی کو حاصل ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page