Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 163

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح کے واقعات جو زمین پر روزانہ ہوتے رہتے ہیں، وہ اس لیے ہوتے ہیں تا کہ آدمی آخرت کے دن کو یاد کرے۔ آخرت کا عظیم تر سیلاب بھی بالکل اچانک آئے گا ۔ بہت سے لوگ اس دن اس طرح برباد ہوں گے کہ ان کے الفاظ کے ذخیرے تک ختم ہو جائیں گے جو دنیا میں ہر آدمی کو نہایت وافر مقدار میں حاصل ہیں۔ ان کی چلتی ہوئی زبانیں بند ہو جائیں گی ۔ وہ سراسیمہ نظروں سے اپنی ہولناک بربادی کو دیکھیں گے اور کچھ بول نہ سکیں گے ۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو یہ خوش خبری دی جائے گی کہ ہلاکت اور بربادی کے عمومی طوفان نے تم کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا۔ تمھارا بہترین اثاثہ اللہ کے مزید انعام کے ساتھ آج تمھارے حوالے کیا جائے گا۔ ایک ہی سیلاب کچھ لوگوں کو جہنم میں دھکیل دے گا اور کچھ لوگوں کے لیے وہ جنت کی ابدی خوشیوں میں داخلہ کا دن بن جائے گا۔ "سیلاب“ سے پہلے آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی ہر ظالمانہ روش کو درست ثابت کرنے کے لیے شاندار الفاظ پالیتا ہے۔ مگر "سیلاب“ کی ہولنا کی کو دیکھتے ہی اس کا سارا زور ختم ہو جائے گا اور ایسا معلوم ہوگا گو یا اس کے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں جن سے وہ اپنی روش کی صفائی پیش کر سکے ۔ اس وقت کیا ہوگا بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا کہ مجھے قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناؤ۔ میں نے کہا، اے خدا کے رسول میں آپ کو قرآن سناؤں اور وہ آپ کے اوپر اترا ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے پسند ہے کہ میں قرآن کو اپنے سوا دوسرے سے سنوں۔ میں نے سورہ نساء پڑھنی شروع کی،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page