Urdu book · اللہ اکبر

آنے والا طوفان

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

آنے والا طوفان 11 اگست 1979 کو موروی (گجرات) میں اچانک ایک سیلاب آیا جس نے پوری بستی کو تہس نہس کر دیا۔ بستی کے کنارے ایک بڑا بند تھا۔ غیر معمولی بارش سے اس کا پانی بہت اونچا ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس نے بند کو توڑ ڈالا۔ ایک مشاہد کے الفاظ میں "تقریباً 20 فٹ اونچی پانی کی دیوار اتنی تیزی کے ساتھ بستی کے اندر داخل ہوئی کہ کوئی اس سے بچ نہ سکتا تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر پانی کا یہ طوفان بستی کی تمام چیزوں کو برباد کر کے نکل گیا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 25 ہزار آدمی اس اچانک سیلاب میں مر گئے۔ جب کہ بستی کی کل آبادی تقریباً 40 ہزار تھی بربادی کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ دیگر چندوں کے علاوہ صرف مرکزی حکومت نے فوری امداد کے طور پر پانچ کروڑ روپے حکومت گجرات کو دیے ہیں۔ ایک انگریزی اخبار کے نامہ نگار ارن کمار نے جو چشم دید پورٹ (ہندوستان ٹائمس 19 اگست 1979) شائع کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ بچے ہیں ان میں سے ہر شخص کے پاس بتانے کے لیے ایک پر درد کہانی ہے ۔ ان کو جو صدمہ اور تکلیف پہنچی ہے اس کے احساس سے وہ ابھی تک نکل نہیں سکے ہیں، کچھ کا حال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی گویا ئی کھودی ہے۔ وہ بالکل سراسیمہ اور ہکا بکا دکھائی دیتے ہیں: Some have lost their speech and look absolutely dazed and blank. ایک اور خبر میں بتایا گیا ہے ایک تباہ حال زمین دار کو اس وقت حیرت ناک خوشی ہوئی جب سرکاری ذمے داروں نے اس کو 18 ہزار روپے نقد 225 گرام سونے کے زیورات یہ کہہ کر دیئے کہ یہ تمھارے گھر کے اندر سے دستیاب ہوئے ہیں (ہندوستان ٹائمس 20 اگست 1979)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page