اللہ اکبر
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
اندازہ ہو جائے تو ان کے الفاظ کی شدت ختم ہو جائے ، کسی چیز میں ان کے لیے لذت باقی نہ رہے دنیا کی عزت بھی ان کو اتنی ہی بے معنی معلوم ہو جتنا دنیا کی بے عزتی۔ نامعلوم مستقبل آدمی اس دنیا میں معصوم کلی کی طرح پیدا ہوتا ہے۔ اس کے والدین امنگوں اور حوصلوں کے ساتھ اس کو پالتے ہیں۔ وہ بڑا ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک ایسی دنیا میں اپنی زندگی کی جدوجہد شروع کرتا ہے جہاں اس کے لیے تلخ تجربات اور نا خوشگوار یادوں کے سوا اور کوئی چیز موجودہ نہیں۔ انسان آرزوؤں کے محل بناتا ہے، صرف اس لیے کہ سنگین حقائق اس کی نفی کر کے اس کو ہمیشہ کے لیے مٹادیں وہ حوصلوں کی دنیا آباد کرتا ہے۔ مگر اس کے حوصلے صرف اس کے دماغ میں رہ جاتے ہیں۔ وہ خارجی دنیا میں واقعہ نہیں بنتے۔ وہ امید میں قائم کرتا ہے، مگر بہت جلد اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی امیدیں فرضی سپنے کے سوا اور کچھ نہ تھیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ایک نازک شیشہ ہے جو صرف اس لیے دنیا میں آتی ہے کہ حالات کی چٹان سے ٹکرا کر چور چور ہو جائے۔ آدمی موجودہ دنیا میں اپنی زندگی کا آغاز سنہری آرزوؤں کے ساتھ کرتا ہے۔ مگر بالآخر جو چیز اس کے حصہ میں آتی ہے وہ صرف آرزوؤں کا ایک قبرستان ہے جو اس کے سینے میں دفن ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیسی کیسی امیدیں ، کیسی کیسی تمنائیں اور کیسے کیسے خواب ہوتے ہیں جن کی وہ اپنی روح کے سب سے نازک گوشہ میں پرورش کرتا ہے، مگر سب کا سب نا تمام رہتا ہے۔ وہ حسرتوں کا قبرستان بنا ہوا زندگی کے دن پورے کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آ جاتا ہے جب کہ وہ ایک نامعلوم مستقبل کی طرف دھکیل دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader