Urdu book · اللہ اکبر

نامعلوم مستقبل

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کا ماضی امیدوں اور تمناؤں کا ماضی ہے اس کا حال ناکامیوں اور حسرتوں کا بہت بڑا مزار ہے اور اس کا مستقبل ایک نا معلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ آغاز اور کیسا عجیب ہے اس کا انجام۔ خدا نے ایسا کیوں کیا۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ آدمی زندگی کے بارے میں سنجیدہ ہو۔ وہ زندگی میں کھو جانے کے بجائے زندگی کے آغاز و انجام کے بارے میں سوچے ۔ جو شخص سنجیدگی کے ساتھ اس معاملہ میں سوچے گا وہ اس کا مل حکمت کو پالے گا جس کی طرف یہ ناقص دنیا ہر آن اشارہ کر رہی ہے۔ الطارخ ایک مولوی صورت آدمی ایکسپریس ٹرین کے فرسٹ کلاس میں داخل ہوا۔ اس کے سوا کیبن میں تین اور مسافر تھے اور تینوں پورے معنوں میں "مسٹر" تھے۔ مذکورہ مسافر کے سادہ لباس اور اس کے چہرے کی شرعی داڑھی نے اس کو اس ماحول میں اجنبی بنا دیا۔ کئی اسٹیشن گزر گئے۔ تینوں مسٹر آپس میں باتیں کرتے رہے مگر کسی نے مولوی کی طرف رخ نہیں کیا۔ مولوی شاید ان کے نزدیک اس قابل نہ تھا کہ اس سے بات کی جائے ۔ آخر مولوی نے یہ کیا کہ اگلے اسٹیشن پر ایک انگریزی اخبار خریدا اور اس کو ہاتھ میں لے کر الٹی طرف سے دیکھنے لگا۔ مسٹر صاحبان یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑے۔ ایک شخص نے دوسرے سے انگریزی میں کہا۔ اس مولوی کو دیکھو الٹی طرف سے اخبار پڑھ رہا ہے۔ دوسرا بولا یہ شخص جب انگریزی نہیں جانتا تو اس کو خواہ مخواہ انگریزی اخبار خریدنے کی کیا ضرورت تھی۔ مسٹر صاحبان کو یقین تھا کہ مولوی ان کی گفتگو کو سمجھ نہیں رہا ہے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ مولوی ان سے زیادہ انگریزی جانتا ہے۔ اس کے بعد مولوی ان کی طرف مخاطب ہوا اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page