انجینئرنگ کافی نہیں
Urdu book, p. 168
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر کی ڈگری لی۔ 1963 میں انھوں نے شکاگو میں 43 منزلہ عمارت کا ٹھیکہ لے کر اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ اپنی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے انھوں نے اس میدان میں مجتہدانہ کارنامے انجام دئے۔ شکاگو میں 110 منزلہ عمارت سیئرز ٹاور(Sears Tower) بنانے کے بعد انھوں نے جدید تعمیرات میں عالمی شہرت حاصل کی۔ دنیا کی یہ سب سے اونچی عمارت ان کے اپنے وضع کردہ غیر روایتی اصولوں پر بنائی گئی ہے جس کو Tubular Design کہا جاتا ہے (ہندوستان ٹائمز، 9 مئی 1982)۔ ڈاکٹر فضل الرحمن خاں کو اپنی غیر معمولی کامیابی کے باوجود قلبی سکون حاصل نہ تھا۔ مسٹر کے ایم املادی 1976 میں فضل الرحمن خان کے شکاگو کے دفتر میں ملے تھے۔ مسٹر املادی نے انہیں ان کی کامیابیوں پر مبارک باد دی مگر ڈاکٹر فضل الرحمن نے اس کو سادہ چہرے کے ساتھ سنا۔ انھوں نے گفتگو کے دوران مسٹر املادی سے کہا کہ زندگی انجینئرنگ سے زیادہ ہے۔ Life is more than engineering. 27 مارچ 1982 کو ڈاکٹر فضل الرحمن خاں کا اچانک اس وقت انتقال ہو گیا جب کہ ان کی عمر صرف 52 سال تھی۔ فضل الرحمن خاں نے تعمیراتی انجینئرنگ میں جو اجتہادی اصول وضع کیے ۔ ان کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے جرمن انجینئر رابرٹ گیبریل (Robert Gabriel) نے 365 منزلہ عمارت کا منصوبہ بنایا ہے جو زمین سے ایک میل اونچی ہوگی۔ مسٹر املادی نے اپنی ملاقات میں ڈاکٹر فضل الرحمن خان سے پوچھا کہ کیا وہ ایسی عمارت کی تعمیر کو ممکن سمجھتے ہیں۔ فضل الرحمن خاں نے اثبات میں جواب دیا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے املادی اپنے مضمون کو اس جملہ پر ختم کرتے ہیں کہ آئندہ یورپ اور امریکا میں ایسی اونچی عمارتیں کھڑی ہو چکی ہوں گی ، مگر افسوس کہ وہی آدمی ان کو دیکھنے کے لیے موجود نہ ہو گا جس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader