اللہ اکبر
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
نے ایسی عمارتوں کی تعمیر کو ابتدائی طور پر ممکن بنایا تھا۔ دنیا اور آخرت انسان کی سب سے بڑی طلب کیا ہے۔ یہ کہ اس کو خوشیوں سے بھری ہوئی ایک زندگی حاصل ہو۔ یہی ہر زمانہ میں آدمی کا سب بڑا خواب رہا ہے۔ ہر آدمی اسی تمنا کو لے کر جیتا ہے۔ مگر ہر آدمی اس تمنا کی تکمیل کے بغیر مر جاتا ہے۔ سارے فلسفے اور نظریات، تمام انسانی کوششیں اسی ایک چیز کے گرد گھوم رہی ہیں۔ مگر آج تک انسان نہ فکری طور پر اس کو دریافت کر سکا اور نہ عملی طور پر اس منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکا۔ اس ناکامی کی وجہ صرف ایک ہے۔ تمام لوگ اپنے خواب کی تعبیر اسی موجودہ دنیا میں پانا چاہتے ہیں۔ مگر ہزاروں برس کے تجربہ نے صرف ایک چیز ثابت کی ہے۔ یہ کہ موجودہ دنیا اس آرزو کی تکمیل کے لیے ناکافی ہے۔ موجودہ دنیا کی محدودیت، موجودہ دنیا میں انسانی آزادی کا غلط استعمال انتہائی فیصلہ کن طور پر اس میں مانع ہے کہ موجودہ دنیا انسانی خوابوں کی تعبیر بن سکے۔ ہم زندگی کو کامیاب بنانے کی طرف ابھی سفر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم کو موت آجاتی ہے۔ ہم مشینی ترقیاں وجود میں لاتے ہیں مگر صنعتی مسائل پیدا ہو کر ساری ترقی کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔ ہم بے پناہ قربانیاں کر کے ایک سیاسی نظام کو وجود میں لاتے ہیں مگر اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والوں کا بگاڑ اس کو عملاً بے نتیجہ بنا دیتا ہے۔ ہم اپنی پسند کے مطابق ایک زندگی بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر دوسرے انسانوں کا بغض، حسد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader