Urdu book · اللہ اکبر

چھت گر پڑی

Urdu book, p. 176

By Maulana Wahiduddin Khan

کام کرتے ہیں نہ کھانا کھاتے ہیں اور نہ بولتے ہیں۔ بس بت کی طرح ادھر ادھر پڑے رہتے ہیں جیسا کہ اس وقت آپ ان کو دیکھ رہے ہیں۔ مزید تحقیق کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ یہاں کچھ لوگوں نے یہ کاروبار کیا ہے کہ سیمنٹ کے رنگ کی مٹی (پنڈول) کو باریک پیس کر بوریوں میں بھر دیتے ہیں۔ یہ مٹی دیکھنے میں بالکل سیمنٹ جیسی ہوتی ہے۔ اس لیے لوگ اس کو سیمنٹ سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔ مذکورہ بزرگ کو بھی اتفاق سے اسی قسم کی سیمنٹ مل گئی۔ اور اسی سیمنٹ سے انھوں نے اپنی چھت بنوا دی۔ ظاہر ہے کہ ایسی سیمنٹ سے بنی ہوئی چھت کا وہی انجام ہونا تھا جو ہوا۔ اسی طرح کوئی دولت کو اپنی چھت بنائے ہوئے ہے۔ کسی کو اپنے الفاظ پر بھروسہ ہے۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے ساتھیوں کی مدد اس کے لیے کافی ہے۔ کوئی بڑوں کا سہارا پکڑے ہوئے ہے۔ مگر یہ سب جھوٹے سہارے ہیں۔ قیامت جب ظاہری سانپچہ کو ہٹائے گی تو اچانک لوگوں کی چھت ان کے اوپر اس طرح گر پڑے گی کہ وہاں کوئی تنکا نہ ہوگا جو آدمی کا سہارا بن سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page