Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

انکار کیا۔ اس واقعہ نے سید محمد کا دل توڑ دیا اور ایک ماہ بعد اس حادثہ نے ان کی زندگی لے لی (ہندوستان ٹائمز، 23 مارچ 1985)۔ آج انسان کامیابیوں کی فہرست میں صرف ایک کمی کو برداشت نہیں کر پاتا۔ حالانکہ انسان پر وہ دن آنے والا ہے جب کامیابیوں کی پوری فہرست اس سے چھن جائے گی۔ کیسا عجیب ہوگا وہ دن اور کیسا عجیب ہوگا اس دن انسان کا حال۔ چھت گر پڑی 1968 کا واقعہ ہے۔ میں اعظم گڑھ کی ایک دوکان میں داخل ہوا۔ وہاں میرے ایک جانے پہچانے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان کو سلام کیا۔ مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے دوبارہ سلام کیا۔ مگر میں نے دیکھا کہ اب بھی وہ خاموش ہیں۔ وہ میری طرف دیکھ رہے تھے مگر کچھ بول نہیں رہے تھے۔ " کیا یہ کوئی دوسرے صاحب ہیں " میں نے سوچا۔ مگر میری آنکھیں اس شبہ کی تردید کر رہی تھیں۔ جو شخص میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا وہ یقینی طور پر وہی شخص تھا جس کو میں پندرہ سال سے جانتا ہوں۔ بظاہر یہ بھی ناممکن تھا کہ وہ مجھ کو بھول گئے ہوں ۔ دکان کے مالک کو جلد ہی حیرانگی کا احساس ہو گیا۔ اس نے بتایا کہ اصل قصہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایک سخت حادثہ پیش آ گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں۔ وہ اپنا نیا مکان بنا رہے تھے۔ دیواریں کھڑی ہو گئیں تو حسب قاعدہ ان کے اوپر سانچہ بنا کر چھت ڈلوائی مگر ایک ماہ بعد جب سانچہ کھولا گیا تو ساری چھت دھڑام سے گر پڑی۔ اس حادثہ کا ان کے دماغ پر اتنا اثر ہوا کہ وہ نیم پاگل ہو گئے ۔ اب وہ نہ کوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page