خدا کی دنیا
Urdu book, p. 178
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی دنیا جب آپ اپنے کمرہ میں ہوں تو آپ اس کی چھت کو ناپ کر معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کی لمبائی کتنی ہے اور چوڑائی کتنی۔ مگر جب آپ کھلے میدان میں آسمان کے نیچے ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی چھت کی لمبائی اور چوڑائی کو ناپنے کے لیے آپ کے تمام پیمانے ناکافی ہیں۔ یہی حال خدا کی پوری کائنات کا ہے۔ ایک بیج جس طرح بڑھ کر درخت کی ایک دنیا بناتا ہے اس کو کون بیان کر سکتا ہے۔ سورج کی روشنی ، ہواؤں کا نظام، چڑیوں کے نغمے، پانی کے بہتے ہوئے چشمے اور اسی طرح کی بے شمار چیزیں جن کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ سچائی اس سے زیادہ لطیف ہے کہ اس کو انسانی لفظوں میں بیان کیا جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں زبان گنگ ہو جاتی ہے وہاں سے حقائق شروع ہوتے ہیں۔ جہاں الفاظ ساتھ نہیں دیتے وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔ خدا چپ کی زبان میں بول رہا ہے اور ہم اس کو شور کی زبان میں سننا چاہتے ہیں۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ ہم خدا کی آوازوں کو سن سکیں۔ اس دنیا کی سب سے قیمتی باتیں وہ ہیں جو چپ کے بول میں نشر ہو رہی ہیں مگر جو لوگ صرف شور وغل کی بولیاں سننا جانتے ہوں وہ ان قیمتی باتوں سے اسی طرح نا آشنا رہتے ہیں جس طرح ایک بہرا شخص کسی عمدہ موسیقی سے۔ خدا کی دنیا بے حد حسین ہے۔ اس کے حسن کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آدمی جب اس دنیا کو دیکھتا ہے تو بے اختیار اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ خدا کی اس ابدی دنیا کا باشندہ بن جائے۔ وہ ہواؤں میں شامل ہو جائے وہ درختوں کی سرسبز یوں میں جا بسے۔ وہ آسمان کی بلندیوں میں کھو جائے۔ مگر انسان کی محدود بیتیں اس کی اس خواہش کی راہ میں حائل ہیں۔ وہ اپنی محبوب دنیا کو دیکھتا ہے مگر اس میں شامل نہیں ہو پاتا۔ شاید جنت اسی کا نام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader