اللہ اکبر
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ آدمی کو اس کی محدودیتوں سے آزاد کر دیا جائے تا کہ وہ خدا کی حسین دنیا میں ابدی طور پر داخل ہو جائے۔ انسان نے جو تمدنی دنیا بنائی ہے وہ خدا کی دنیا سے کس قدر مختلف ہے۔ انسان کی بنائی ہوئی سواریاں شور اور دھواں پیدا کرتی ہیں مگر خدا کی دنیا میں روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلتی ہے اور نہ کہیں شور ہوتا ہے اور نہ دھواں۔ انسان انسان کے درمیان اس طرح رہتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے طرح طرح کی تکلیفیں پہنچتی رہتی ہیں، مگر خدا کی دنیا میں ہوا اس طرح گزرتی ہے کہ وہ کسی سے نہیں ٹکراتی۔ انسان اپنی غلاظت کو کاربن اور پسینہ اور بول و براز کی صورت میں خارج کرتا ہے مگر خدا نے اپنی دنیا میں جو درخت اگائے ہیں وہ اس کے برعکس اپنی کثافت کو آکسیجن کی صورت میں خارج کرتے ہیں اور پھول اپنی کثافت کو خوشبو کی صورت میں۔ انسان کے بنائے ہوئے تمام شہروں میں کوڑے کو ٹھکانے لگانا ایک ناقابل حل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ مگر خدا کی بنائی ہوئی وسیع تر دنیا میں ہر روز بڑے پیمانہ پر ”کوڑا“ نکلتا ہے مگر کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ کیوں کہ اس کو (Recycle) کر کے دوبارہ کائنات کے مفید اجزاء میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ جو شخص حقیقت کی جھلک دیکھ لے تو وہ اس کے بیان سے اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس پر چپ طاری ہو جاتی ہے نہ یہ کہ وہ لفظوں کا سیلاب بہانے لگے۔ ہم خدا کے ملک میں ہیں ایک امریکی خاتون سیاحت کی غرض سے روس گئیں۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ہر جگہ کمیونسٹ پارٹی کے چیف کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ بات انہیں پسند نہیں آئی۔ ایک موقع پر وہ کچھ روسیوں سے اس پر تنقید کرنے لگیں خاتون کے ساتھی نے ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader